• صارفین کی تعداد :
  • 2222
  • 12/4/2013
  • تاريخ :

قمہ زني اور علماء کي رائے3

قمہ زنی اور علماء کی رائے3

 

قمہ زني اور علماء کي رائے

قمہ زني اور علماء کي رائے 2

سۆال:

کيا آپ کا مطلب يہ ہے کہ جنہوں نے ماضي ميں قمہ‏زني اور زنجيرزني کے جواز کے فتوے ديئے ہيں، خطا کے مرتکب ہوئے ہيں؟!

جواب:

ايک دفعہ ايک يورپي ملک کے ٹيلي ويژن نے 12 مرتبہ ايرانيوں کي قمہ‏زني کي تصاوير دکھائيں اور پھر ايک ماہر نفسيات ڈاکٹر کو ٹيلي ويژن اسکريں پر دکھايا گيا جو کہہ رہا تھا:

"اہل تشيع ميں ايک قسم کي خاص بيماري ہے جس کي وجہ سے وہ خودکشي کي مانند اپنے آپ کو آزار و اذيت ديتے ہيں- وہ ايک نفسياتي مرض کا شکار ہيں جس کا نام "خود آزاري" ہے"- اور يوں قمہ زني کو بہانہ قرار دے کر يورپ نے تشيع کا مذاق اڑايا!"

آپ جب ايک مرجع تقليد سے سوال پوچھتے ہيں تو يوں پوچھيں:

اے مرجع تقليد! کيا آپ اجازت ديتے ہيں کہ ہم اس طرح سے عزاداري کريں کہ يورپ والے تشيع کا مذاق اڑائيں اور شيعہ کے اوپر ہنس ديں؟! تو حتي ايک مرجع تقليد بھي اس کي اجازت نہيں دےگا- خطا آپ کے سوال ميں ہے؛ آپ نے پوچھا ہے کہ کيا آپ اجازت ديتے ہيں کہ امام حسين (ع) کي عزداري ميں چند قطرے خون بہہ جائے؟ اور انھوں نے بھي کہہ ديا کہ "جائز ہے"- چنانچہ آپ پوچھيں: کہ کيا آپ اجازت ديتے ہيں کہ ہم اس طرح سے عزاداري کريں کہ يورپ والے تشيع کا مذاق اڑائيں؟! يقيناً ايک مرجع تقليد بھي اس کي اجازت نہيں دے گا- (1)

ماضي ميں بعض فقہائے سابقين (قدّس اللہ اسرارہم) نے اپنے زمانے اور خاص حالات ميں ان ميں سے بعض امور کي اجازت دي ہے ليکن اگر وہ بھي ہمارے زمانے ميں ہوتے اور انہيں ہمارے جيسے حالات کا سامنا ہوتا تو يقيناً ان کے فتاوي مختلف ہوتے- (2)

 

حوالہ جات:

1- سورة فلق کي تفسير ميں حجت الاسلام والمسلمين قرائتي کے خطاب سے اقتباس-

2- عزاداري کے سلسلے ميں متعدد سوالات اور آيت اللہ العظمي مکارم شيرازي کے قلم سے- کتاب: «از شور تا شعور حسيني» محمد تقي اکبر نژاد، ص383-

3- زماني و  مکاني حالات کي بنا شرعي مسائل ميں تبديلي کي مثاليں ائمہ معصومين (ع)  کے دور ميں بھي ملتي ہيں؛ مثال کے طور پر "وجوب خضاب" کا حکم، اميرالمۆمنين (ع)  کے دور ميں اٹھايا گيا- مروي ہے کہ: اميرالمۆمنين (ع) سے رسول اللہ کے اس قول کے بارے ميں دريافت کيا گيا کہ سفيد بالوں کا رنگ تبديل کردو اور يہوديوں سے مشابہت نہ رکھو؛ تو آپ (ع) نے فرمايا: حضور (ص) نے يہ حکم اس زمانے ميں جاري کيا جب مسلمانوں  کي آبادي کم تھي ليکن آج اسلام ہر سو پھيل گيا ہے اور اسلامي نظام استوار ہوگيا ہے لہذا جو جس طرح چاہے، عمل کرے- وسائل الشيعه، ج 2، ص 84 نہج البلاغہ حکمت نمبر 17-

 

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

لطم اور قمہ زني 2

کربلا کا واقعہ