• صارفین کی تعداد :
  • 3916
  • 12/8/2013
  • تاريخ :

دربار ابن زياد ميں امام سجاد (ع) کي حفاظت

دربار ابن زیاد میں امام سجاد (ع) کی حفاظت

شہادت امام حسين (ع) کے بعد زينب کبري (س) کي تين ذمہ دارياں

قَالَ الْمُفِيدُ فَأُدْخِلَ عِيَالُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا عَلَى ابْنِ زِيَادٍ فَدَخَلَتْ زَيْنَبُ أُخْتُ الْحُسَيْنِ ع فِي جُمْلَتِهِمْ مُتَنَكِّرَةً وَ عَلَيْهَا أَرْذَلُ ثِيَابِهَا وَ مَضَتْ حَتَّى جَلَسَتْ نَاحِيَةً وَ حَفَّتْ بِهَا إِمَاۆُهَا فَقَالَ ابْنُ زِيَادٍ مَنْ هَذِهِ الَّتِي انْحَازَتْ فَجَلَسَتْ نَاحِيَةً وَ مَعَهَا نِسَاۆُهَا فَلَمْ تُجِبْهُ زَيْنَبُ فَأَعَادَ الْقَوْلَ ثَانِيَةً وَ ثَالِثَةً يَسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَتْ لَهُ بَعْضُ إِمَائِهَا هَذِهِ زَيْنَبُ بِنْتُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ص فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا ابْنُ زِيَادٍ وَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَحَكُمْ وَ قَتَلَكُمْ وَ أَكْذَبَ أُحْدُوثَتَكُمْ فَقَالَتْ زَيْنَبُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنَا بِنَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ ص وَ طَهَّرَنَا مِنَ الرِّجْسِ تَطْهِيراً إِنَّمَا يَفْتَضِحُ الْفَاسِقُ --- ثُمَّ الْتَفَتَ ابْنُ زِيَادٍ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقِيلَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ فَقَالَ أَ لَيْسَ قَدْ قَتَلَ اللَّهُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ فَقَالَ عَلِيٌّ قَدْ كَانَ لِي أَخٌ يُسَمَّى عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ قَتَلَهُ النَّاسُ فَقَالَ بَلِ اللَّهُ قَتَلَهُ فَقَالَ عَلِيٌّ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها وَ الَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنامِها فَقَالَ ابْنُ زِيَادٍ وَ لَكَ جُرْأَةٌ عَلَى جَوَابِي اذْهَبُوا بِهِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ فَسَمِعَتْ عَمَّتُهُ زَيْنَبُ فَقَالَتْ يَا ابْنَ زِيَادٍ إِنَّكَ لَمْ تُبْقِ مِنَّا أَحَداً فَإِنْ عَزَمْتَ عَلَى قَتْلِهِ فَاقْتُلْنِي مَعَهُ فَنَظَرَ ابْنُ زِيَادٍ إِلَيْهَا وَ إِلَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ عَجَباً لِلرَّحِمِ وَ اللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّهَا وَدَّتْ أَنِّي قَتَلْتُهَا مَعَهُ‏ دَعُوهُ فَإِنِّي أَرَاهُ لِمَا بِهِ فَقَالَ عَلِيٌّ لِعَمَّتِهِ اسْكُتِي يَا عَمَّةُ حَتَّى أُكَلِّمَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ ع فَقَالَ أَ بِالْقَتْلِ تُهَدِّدُنِي يَا ابْنَ زِيَادٍ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَتْلَ لَنَا عَادَةٌ وَ كَرَامَتَنَا الشَّهَادَة-1--

جب خاندان نبوت ابن زياد کي مجلس ميں داخل ہوئي ؛ زينب کبري دوسري خواتين کے درميان ميں بيٹھ گئيں ؛ تو ابن زياد نے سوال کيا : کون ہے يہ عورت ، جو دوسري خواتين کے درميان چھپي ہوئي ہے؟ زينب کبري نے جواب نہيں ديا - تين بار يہ سوال دہراياتو کنيزوں نے جواب ديا : اے ابن زياد ! يہ رسول خدا (ص) کي اکلوتي بيٹي فاطمہ زہرا (س)کي بيٹي زينب کبري (س)ہے - ابن زياد آپ کي طرف متوجہ ہو کر کہا: اس خدا کا شکر ہے جس نے تمہيں ذليل و خوار کيا اور تمھارے مردوں کو قتل کيا اور جن چيزوں کا تم دعوي کرتے تھے ؛ جٹھلايا -

ابن زياد کي اس ناپاک عزائم کو زينب کبري (س)نے خاک ميں ملاتےہوئے فرمايا:اس خدا کا شکر ہے جس نے اپنے نبي محمد مصطفيٰ (ص) کے ذريعے ہميں عزت بخشي - اورہرقسم کے رجس اور ناپاکي سے پاک کيا- بيشک فاسق ہي رسوا ہوجائے گا -

جب ابن زياد نے علي ابن الحسين (ع)کو ديکھا تو کہا يہ کون ہے؟ کسي نے کہا : يہ علي ابن الحسين (ع)ہے -تو اس نے کہا ؛کيا اسے خدا نے قتل نہيں کيا ؟ يہ کہہ کر وہ بني اميہ کا عقيدہ جبر کا پرچار کرکے حاضرين کے ذہنوں کو منحرف کرنا چاہتے تھے اور اپنے جرم کو خدا کے ذمہ لگا کر خود کو بے گناہ ظاہر کرنا چاہتا تھا - ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

پيغمبر حضرت خديجہ کي وفات کے موقع پر

فاطمہ (س) اپنے والد کي وفات کے بعد زيادہ دن زندہ نہ رہيں