• صارفین کی تعداد :
  • 2405
  • 7/10/2013
  • تاريخ :

عقيدہ توحيد کے بارے ميں آئمہ کرام کے فرامين

الله

عقيدہ توحيد اور شرک (حصّہ اوّل)

عقيدہ توحيد اور شرک (حصّہ دوّم)

عقيدہ توحيد اور شرک (حصّہ سوّم)

عمر بن علي (ع) نے اپنے بابا اميرالمۆمنين  عليہ السلام  سے اور انہوں نے حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے نقل کيا ہے کہ آپ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا:

التَّوْحِيدُ ظَاهِرُهُ فِي بَاطِنِهِ وَ بَاطِنُهُ فِي ظَاهِرِهِ ظَاهِرُهُ مَوْصُوفٌ لَا يُرَى وَ بَاطِنُهُ مَوْجُودٌ لَا يَخْفَى يُطْلَبُ بِكُلِّ مَكَانٍ وَ لَمْ يَخْلُ مِنْهُ مَكَانٌ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَاضِرٌ غَيْرُ مَحْدُودٍ وَ غَائِبٌ غَيْرُ مَفْقُود.

توحيد، يعني اس چيز کا قائل ہونا کہ خدا نہ باطن رکھتا ہے اور نہ ظاہر، اس کا ظاہر اس کے باطن ميں اور اس کا باطن اس کے ظاہر ميں ہے، اس کا ظاہر ايسا موصوف ہے کہ جسے ديکھا نہيں جا سکتا اور اس کا باطن ايسا موجود ہے کہ جو مخفي اور پوشيدہ نہيں ہے، اسے ہر جگہ پر پايا جا سکتا ہے اور کوئي بھي جگہ (حتي کہ) پلک جھپکنے کي مقدار کے برابر بھي اس سے خالي نہيں ہے وہ ايسا حاضر ہے کہ جسے محدود نہيں کيا سکتا اور ايسا غائب ہے کہ غير مفقود ہے (يعني ظاہري آنکھوں سے دور ہے درحاليکہ کہ ناپيد اور غائب نہيں ہے)-

اميرالمۆمنين عليہ السلام  سے روايت ہے کہ آپ عليہ السلام  نے فرمايا: ميں نے پيغمبر اکرم (ص) سے سنا ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمايا:

التَّوْحِيدُ ثَمَنُ الْجَنَّةِ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَفَاءُ شُكْرِ كُلِّ نِعْمَةٍ وَ خَشْيَةُ اللَّهِ مِفْتَاحُ كُلِّ حِكْمَةٍ وَ الْإِخْلَاصُ مِلَاكُ كُلِّ طَاعَةٍ.

توحيد (يعني خدا کي وحدانيت کا اقرار کرنا) جنت کي قيمت ہے، اور خدا کي حمد و ثناء بجالانا ہر نعمت کے شکر کي وفا ہے  اور خدا سے ڈرنا ہر حکمت کي چابي ہے اور اخلاص (يعني خدا کے ليے اپني نيت کو خالص کر لينا) ہر طاعت کے قبول ہونے کا ملاک اور سبب ہے-

  رسول خدا (ص) فرماتے ہيں:

إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى وَعَدَنِي وَ أَهْلَ بَيْتِي خَاصَّةً مَنْ أَقَرَّ مِنْهُمْ بِالتَّوْحِيدِ فَلَهُ الْجَنَّةُ قَالَ وَ مَا جَزَاءُ مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالتَّوْحِيدِ إِلَّا الْجَنَّة.

بيشک خداوند نے مجھ سے اور فقط ميرے اہل بيت عليہم السلام  وعدہ کيا ہے کہ ان ميں سے جو بھي خدا کي توحيد اور وحدانيت کا اقرار کرے اس کا اجر جنت ہے، اور فرمايا ہے کہ جس شخص پر خدا نے توحيد کے سبب انعام کيا اس کي جزاء نہيں ہے مگر بہشت-

فضل بن شاذان سے مروي ہے کہ امام رضا عليہ السلام  نے فرمايا:

مَنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ وَ نَفَى التَّشْبِيهَ إِلَى أَنْ قَالَ وَ أَقَرَّ بِالرَّجْعَةِ بِالْيَقِينِ وَ اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ فَهُوَ مُۆْمِنٌ حَقّاً وَ هُوَ مِنْ شِيعَتِنَا أَهْلَ الْبَيْت.

جو شخص توحيد کا اقرار کرتا ہو اور خدا کے ليے تشبيہ کا قائل نہ ہو يہاں تک آپ عليہ السلام  نے فرمايا: اور پورے يقين کے ساتھ رجعت کا اعتقاد رکھتا ہو اور کبيرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو ، وہ سچا مۆمن اور ہمارے شيعوں ميں سے ہے-

ابو بصير نے امام صادق عليہ السلام  سے نقل کيا ہے کہ آپ عليہ السلام  نے فرمايا:

 إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى حَرَّمَ أَجْسَادَ الْمُوَحِّدِينَ عَلَى النَّار.

خداوند متعال نے موحدين اور خدا پرستوں کے اجسام کو آتش جہنم پر حرام کر ديا ہے- (ختم شد)

 

متعلقہ تحریریں:

انسان اورتوحيد تک رسائي ( حصّہ دوّم )

انسان اور توحيد تک رسائي ( حصّہ چہارم )