• صارفین کی تعداد :
  • 4349
  • 4/12/2009
  • تاريخ :

ہم پائے کے ادیب ہیں

پطرس بخاری

بہت سے قارئین کرام نے شاید ہمارا نام بھی پڑھا یا سنا نہ ہوگا اور اگر یہ کتاب بھی شائع نہ ہوئی تو آئندہ بھی نہ سنیں گے۔ مگر یقین مانئے کہ ہم پائے کے ادیب ہیں۔ 'پائے کے ادیب ' کا ارتقاء، ہمارا مطلب ہے اس محاورے کا ارتقاء کس طرح ہوا، ہمارا ناقص علم اس سلسلے میں معذور ہے۔ واللہ اعلم یہاں 'پائے' سے کیا مراد ہے ؟ ویسے پائے بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ عالمِ حیوانات کے دو پایوں اور چار پایوں کے علاوہ، جن میں ہمارا بھی شمار ہونا چاہئے (مطلب اوّل الذکر میں)۔ بقول مشتاق یوسفی، ایسے بھی پائے ہوتے ہیں جن کو چوڑی دار پاجامہ پہنانے کو جی چاہے۔ ہمارا، بلکہ مشتاق یوسفی کا اشارہ چارپائی کے پایوں کی طرف ہے اور ان ہی کے بقول وہ پائے بھی ہوتے ہیں جن کو انھوں نے سریش سے تشبیہ دی ہے اور جسے ان کے یار غار اور ہمزاد مرزاعبدالودود بیگ دہلں کی تہذیب کی نشانی گردانتے ہوئے نوشِ جان کرتے ہیں۔ یہ نہاری پائے تو ہم کو بھی عزیز ہیں بشرطیکہ اس میں کام و دہن کی آزمائش نہ ہو۔ بہرحال اب ہم نے جب یہ فقرہ لکھ ہی دیا ہے تو امید ہے کہ آپ بھی اس کے معنی وہی سمجھیں گے جو ہم نے مراد لئے ہیں۔ اور اگر نہ سمجھیں تو ہمارے لئے وہی مثال ہو گی کہ نہ پائے ماندن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

معاف کیجئے، جملہ معترضہ کچھ 'پیرا معترضہ ' ہو گیا۔ خدا نہ کرے کہ یہ کتاب ہی معترضہ ہو جائے۔

ہمارا مطلب دراصل یہ ہے کہ نظم و نثر میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے اس حقیر فقیر بندہ پر تقصیر کو کم و بیش 30 سال گزر چکے ہیں۔ جو لکھا اس میں مشتے از چھپا بھی ہے چنیدہ چنیدہ رسائل (یعنی جن رسائل نے ہم کو چنا) میں۔ احباب کو بہر حال علم ہے کہ ہماری تخلیقات چھپیں یا نہ چھپیں، ہمارے ادبی قدوقامت میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ بطور شاعر ہم ضرور زیادہ جانے پہچانے گئے ہیں مگر نثر .....اللہ اکبر۔ افسانہ ناول کے علاوہ ہم چاہے تنقید لکھیں، خاکے لکھیں (یا اڑائیں) ، تاریخ یا سائنس کے موضوع پر قلم اٹھائیں، ہماری حسِ مزاح بری طرح پھڑک جاتی ہے۔ بلکہ در اصل یہ رگِ جان سے قریب ہی کوئی رگ واقع ہوئی ہے جو دھڑکن کے ساتھ دھڑکتی ہے۔

چار پانچ دن پہلے ہی یہ خیال آیا کہ سفر بیت اللہ کے تاثرات پر مبنی کچھ لکھا جائے۔ رپورتاژ، سفر نامہ، ڈائری۔ جو بھی کہہ لیجیے ۔ جب حرمین میں داخل ہوں گے اس وقت کے تاثرات ممکن ہے کہ سنجیدہ ہوں، لیکن عام حالات میں ( ابھی تو احرام سے بھی باہر ہیں۔ ویسے مزاح تو احرام کی حالت میں بھی حرام تو نہیں ہو گا) سنجیدگی کا دامن ـــ..... مگر یہ سنجیدگی کون ہے......؟

تحریر : اعجاز عبید


متعلقہ تحریریں:

ايک دعا

ہمارا ملک