• صارفین کی تعداد :
  • 5567
  • 6/17/2008
  • تاريخ :

ماں کی مصیبت

پطرس بخاری

ماں بچے کو گود میں ليے بیٹھی ہے۔ باپ انگوٹھا چوس رہا ہے اور دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ بچہ حسب معمول آنکھیں کھولے پڑا ہے۔ ماں محبت بھری نگاہوں سے .....اس کے منہ کو تک رہی ہے اور پیار سے حسب ذیل باتیں پوچھتی ہے:

۱۔ وہ دن کب آئے گا جب تو میٹھی میٹھی باتیں کرے گا؟

۲۔ بڑا کب ہوگا؟ مفصل لکھو۔

۳۔ دولہا کب بنے گا اور دلہن کب بیاہ کر لائے گا ؟ اس میں شرمانے کی ضرورت نہیں۔

۴۔ ہم کب بڈھے ہوں گے؟

۵۔ تو کب کمائے گا؟

۶۔ آپ کب کھائے گا ؟ اور ہمیں کب کھلائے گا؟ باقاعدہ ٹائم ٹیبل بنا کر واضح کرو۔

بچہ مسکراتا ہے اور کیلنڈر کی مختلف تاریخوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تو ماں کا دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ جب ننھا سا ہونٹ نکال نکال کر باقی چہرے سے رونی صورت بناتا ہے۔ تو یہ بےچین ہوجاتی ہے۔ سامنے پنگورا لٹک رہا ہے۔ سلانا ہو، تو افیم کھلا کر اس میں لٹا دیتی ہے۔ رات کواپنے ساتھ سلاتی ہے ۔(باپ کے ساتھ دوسرا بچہ سوتا ہے) جاگ اٹھتا ہے تو جھٹ چونک پڑتی ہے اور محلے والوں سے معافی مانگتی ہے۔ کچی نیند میں رونے لگتا ہے۔ تو بےچاری مامتا کی ماری آگ جلا کر دودھ کو ایک اور اُبال دیتی ہے۔ صبح جب بچے کی آنکھ کھلتی ہے تو آپ بھی اُٹھ بیٹھتی ہے، اس وقت تین بجے کا عمل ہوتا ہے۔ دن چڑھے منہ دھلاتی ہے۔ آنکھوں میں کاجل لگاتی ہے اور جی کڑا کرکے کہتی ہے کیا چاند سا مکھڑا نکل آیا واہ واہ۔

                                       تحریر:   پطرس بخاری

                                     پیشکش:    شعبہ تحریرو پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

سویرے جو کل آنکھہ میری کھلی

  افسانے