• صارفین کی تعداد :
  • 4827
  • 5/10/2008
  • تاريخ :

بٹن کون کون دبائے گا

نازک مزاج بچہ

ماں (اپنے لاڈلے بیٹے سے ) ’’ بیٹا ! جب تمہارے ابو امریکہ جائیں گے تو میں ان سے کہوں گی کہ وہاں سے ایسی چیز لائیں جو میرے بیٹے کا ہر کام کردے۔ بٹن دبایا تو جوتے پالش، بٹن دبایا تو یونیفارم استری، بٹن دبایا تو لحاف منہ پر، بٹن دبایا تو بیگ کندھے پر، اس طرح میرے بیٹے کو کوئی کام نہیں کرنا پڑے گا ‘‘۔

بیٹا۔’’لیکن امی! بٹن کون دبائے گا‘‘۔

 

متعلقہ تحریریں:

  جمعہ والا شخص

  ذہانت

   باجی

   یوں بھی ہوتا ہے

   ڈیڈی

   رازداری کی بات

   جواب