• صارفین کی تعداد :
  • 824
  • 2/18/2018 4:50:00 PM
  • تاريخ :

معاشرہ، امربالمعروف ونہی عن المنکرسے زندہ ہوتا ہے

اگر تمام عبادات کو ترازو کےایک پلڑے میں رکھا جائےاور امربالمعروف ونہی عن المنکر کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو وہ ایک سمندرکےمقابلے میں قطرے کی مانند ہوتی ہیں۔

معاشرہ، امربالمعروف ونہی عن المنکرسے زندہ ہوتا ہے
 
آیت اللہ سید علی رضا عبادی نے 14فروری کو صوبہ جنوبی خراسان کی امربالمعروف ونہی عن المنکرکمیٹی کی صوبائی کونسل کی نشست میں کہا ہےکہ امربالمعروف ونہی عن المنکرکا موضوع بہت زیادہ اہم ہےاورمعصومین علیہم السلام کی خوبصورت تعبیرکےمطابق اگر تمام عبادات کو ترازو کےایک پلڑے میں رکھا جائےاور امربالمعروف ونہی عن المنکر کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو وہ ایک سمندرکےمقابلے میں قطرے کی مانند ہوتی ہیں۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ معاشرہ امربالمعروف ونہی عن المنکرسے زندہ ہوتا ہے اوراگراس اہم واجب کو ترک کردیا جائے تو ہرچیز آلودہ ہوجاتی ہے۔

آیت اللہ عبادی نے کہا ہےکہ استعمارنے جب 200سال قبل مشرقی ایشیا، برصغیراوراسلامی ممالک پراپنا تسلط قائم کرلیا تو اس کی پوری کوشش تھی کہ اسلام سےامربالمعروف ونہی عن المنکر چھین لے۔اس کے بعد اس نے مسلمانوں کے تمام مسائل سےکھیل کھیلا ہے اورآج ہماری گردن پربہت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

انہوں نےاندلس اوریورپ کےمسلمانوں کی تلخ تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہےکہ دشمن امربالمعروف ونہی عن المنکر کےخلاف پروپیگنڈہ  اورثقافتی امورمیں اپنا اثرورسوخ قائم کرکے معاشرے میں فساد اوربرائیوں کو ایجاد کیا اورجب اسلامی معاشرہ اس اسلحہ سےخالی ہوگیا تو اس نے حملہ کرکےمسلمانوں کا ایسا قتل عام کیا کہ جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہے اورپھرسات سو سال تک اذان نہیں ہوتی رہی ہے۔

صوبہ جنوبی خراسان کے نمائندہ ولی فقیہ نےاس مطلب کہ بعض عہدیدار آزادی اظہار، آزادی قلم اورٹیلیگرام کے مفادات جیسےمسائل کی بات کرتے ہیں، کی وضاحت کرتے ہوئےکہا ہےکہ ٹیلیگرام دشمن کے اختیارمیں ہے اورہروقت معاشرے میں فتنہ وفساد ، تفرقہ اوراختلافات اورلوگوں کے قتل عام کا اقدام کرسکتے ہیں جبکہ ہمارے عہدیدار یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس ٹیلیگرام سے ایک لاکھ روزگاروابستہ ہے۔

انہوں نے اس بات پرزوردے کرکہا ہےکہ ہمارے انقلاب کا فلسفہ یہ ہےکہ ہم ہرکام کرسکتے ہیں اور ہمارے ماہرین کہتے ہیں کہ ہم انتہائی آسانی کےس اتھ سوشل نیٹ ورکس کو ایجاد کرسکتے ہیں۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ ہمیں غفلت کی نیند سے بیدارہونا چاہیے کیونکہ یہ کام عقل، علم ،سیاست اورمعیشت کے ساتھ سازگارنہیں ہیں۔

آیت اللہ عبادی نے آخرمیں کہا ہےکہ اگرتم معاشرے میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کا احیاء کرو گےتو تم بہترین امت ہو۔
منبع: شفقنا نیوز