• صارفین کی تعداد :
  • 833
  • 2/13/2018 9:38:00 PM
  • تاريخ :

جھالت و پستي، انسان کے دو بڑے دشمن

حضرت امام سجاد اور حضرت امير المومنين علیھما السلام سے نقل کيا: تمھاري جانوں کي جنت کے علاوہ کوئي اور قيمت نھيں ہے لھذا اپني جانوں کو جنت کے علاوہ کسي اور چيز کے عوض نہ بيچو۔

 
جھالت و پستي، انسان کے دو بڑے دشمن

آج انسان نے دنيا ميں جھاں کھيں بھي چوٹ کھائي ہے خواہ وہ سياسي لحاظ سے ھو يا فوجي و اقتصادي لحاظ سے، اگر آپ اُس کي جڑوں تک پھنچيں تو آپ کو يا جھالت نظر آئے گي يا پستي -يعني اِس انساني معاشرے کے افراد يا آگاہ وواقف نھيں ہيں اوراُنھيں جس چيز کي لازمي معرفت رکھني چاھيے وہ لازمي معرفت و شناخت نھيں رکھتے ہيں يا يہ کہ معرفت کے حامل ہيں ليکن اُس کي اھميت اور قدر وقيمت کے قائل نھيں ہيں، انھوں نے اُسے کوڑيوں کے دام بيچ ديا ہے اور اُس کے بجائے ذلت وپستي کو خريد ليا ہے!

حضرت امام سجاد اور حضرت امير المومنين علیھما السلام سے نقل کيا گيا ہے کہ آپ نے فرمايا کہ "لَيسَ لِاَنفُسِکُم ثَمَن اِلَّا الجَنَّۃَ فَلَا تَبِيعُوھَا بِغَيرِھَا"؛تمھاري جانوں کي جنت کے علاوہ کوئي اور قيمت نھيں ہے لھذا اپني جانوں کو جنت کے علاوہ کسي اور چيز کے عوض نہ بيچو۔ يعني اے انسان! اگر يہ طے ھو کہ تمھاري ھستي و ذات اور تشخص و وجود کو فروخت کيا جائے تو اِن کي صرف ايک ھي قيمت ہے اور وہ ہے خدا کي جنت، اگر تم نے اپنے نفس کو جنت سے کم کسي اور چيز کے عوض بيچا تو جان لو کہ تم کو اِس معاملے ميں غبن ھوا ہے! اگر پوري دنيا کوبھي اِس شرط کے ساتھ تمھيں ديں کہ ذلت وپستي کو قبول کر لو توبھي يہ سودا جائز نھيں ہے-

وہ تمام افراد جو دنيا کے گوشے کناروں ميں زر وزمين اور صاحبانِ ظلم و ستم کے ظلم کے سامنے تسليم ھوگئے ہيں اوراُنھوں نے اِس ذلت و پستي کو قبول کر ليا ہے، خواہ عالم ھوں يا سياست دان، سياسي کارکن ھوں يا اجتماعي امور سے وابستہ افراد يا روشن فکر اشخاص، تو يہ سب اِس وجہ سے ہے کہ اُنھوں نے اپني قدر و قيمت کو نھيں پھچانا اور خود کو کوڑيوں کے دام فروخت کرديا ہے ؛ ھاں سچ تو يھي ہے کہ دنيا کے بھت سے سياستدانوں نے خود کو بيچ ڈالا ہے- عزت صرف يہ نھيں ہے کہ انسان صرف سلطنت کيلئے بادشاھت يا رياست کي کرسي پر بيٹھے؛ کبھي ايسا بھي ھوتا ہے کہ ايک انسان تخت حکومت پر بيٹھ کر ھزاروں افرادسے غروروتکبر سے پيش آتا ہے اوراُن پر ظلم کرتاہے ليکن اُسي حالت ميں ايک بڑي طاقت اور سياسي مرکز کا اسير و ذليل بھي ھوتا ہے اور خود اُس کي نفساني خواھشات اُسے اپنا قيدي بنائے ھوئے ھوتي ہيں! آج کي دنيا کے سياسي اسير و قيدي کسي نہ کسي بڑي طاقت و قدرت اور دنيا کے بڑے سياسي مراکز کے اسير و قيدي ہيں!

منبع: اشرق۔نیٹ