• صارفین کی تعداد :
  • 887
  • 2/9/2018 5:15:00 PM
  • تاريخ :

وجود خدا پر قرآنی آیات

وجود خدا پر قرآنی آیات

وجود خدا پر قرآنی آیات
 
قارئین کرام ! آئیے قرآن مجید کی ان آیات کا مطالعہ کرتے ھیں جن میں خداوندعالم کے وجود کو بیان کیا گیا ھے کیونکہ درج ذیل آیات میں حیوانات کی خلقت اور دوسرے دقیق نظام کو بیان کیا گیا ھے جن کے مطالعہ کے بعد انسان کو یہ یقین هوجاتا ھے کہ حساب شدہ نظام یونھی اتفاقی طور پر پیدا نھیں هوا۔
ارشاد خداوندی هوتا ھے:

< وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّاءٍ فَمِنْہُمْ مَنْ یَمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی اٴَرْبَعٍ یَخْلُقُ اللّٰہَ مَایَشَآءُ >[1]

”اور خدا ھی نے تمام زمین پر چلنے والے (جانوروں) کو پانی سے پیدا کیا اوران میں سے بعض تو ایسے ھیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ھیں اور بعض ان میں سے ایسے ھیں جو دو پاؤں سے چلتے ھیں اور بعض ان میں سے ایسے ھیں جو چار پاؤں پر چلتے ھیں ، خدا جو چاہتا ھے پیدا کرتا ھے۔“

<وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالاٴنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہُ>[2]

”اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چار پایوں کی بھی رنگتیں طرح طرح کی ھیں“

< وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الاٴرْضِ وَلَا طٰٓٓائِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلاّٰ اُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ>[3]

”زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا پرندہ ھے ان کی بھی تمھاری طرح جماعتیں ھیں“

< اَوَلَمْ یَرَوا اِلٰی الطَّیْرِ فَوْقَہُمْ صٰفٰتٍ وَیَقْبِضْنَ مَا یُمْسِکُھُنَّ اِلاَّ الرَّحْمٰنُ>[4]

”کیا ان لوگوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو اڑتے نھیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ھیں اور سمیٹ لیتے ھیں کہ خدا کے سوا انھیں کوئی روکے نھیں رہ سکتا“
<وَالْاَنْعَامِ خَلَقَہَا لَکُمْ فِیْہَا دَفْ ء ٌوَّمَنَافِعُ وَمِنْہَا تَاْکُلُوْنَo وَلَکُمْ فِیْہَا جَمَالٌ حِیْنَ تَرِیْحُوْنَ وَحِیْنَ تَسْرِحُوْنَ o وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَمْ تَکُوْنُوْا بَالِغَیْہِ اِلَّا بِشَقِّ الْاَنْفُسْ اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَوٴُفٌ رَحِیْمْ o وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْہَا وَزِیْنَةً وَیَخْلُقُ مَا لٰا تَعْلَمُوْنَ >[5]
”اسی نے چار پایوں کو بھی پیداکیا کہ تمھارے لئے ان (کی کھال اور اُون ) سے جاڑوں (کاسامان) ھے اس کے علاوہ اور بھی فائدے ھیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے هو اور جب تم انھیں سرِشام چرائی پر سے لاتے هو جب سویرے ھی چرائی پر لے جاتے هو تو ان کی وجہ سے تمھاری رونق بھی ھے اور جن شھروں تک بغیر بڑی جان کپھی کے پہنچ نہ سکتے تھے وھاں تک یہ چوپائے تمھارے بوجھ اٹھائے لئے پھرتے ھیں، اس میں شک نھیں کہ تمھاراپروردگار بڑا شفیق مھربان ھے اور (اسی نے) گھوڑوں ،خچروں اور گدھوں کو( پیدا کیا)تاکہ تم ان پر سوار هو اور (اس میں) زینت (بھی) ھے (اس کے علاوہ) اور چیزیں بھی پیدا کرے گا جن کو تم نھیں جانتے“
_______________
[1] سورہ نور آیت ۴۵۔ 
[2] سورہ فاطر آیت ۲۸۔
[3] سورہ انعام آیت ۳۸۔
[4] سورہ ملک آیت ۱۹۔
[5] سورہ نحل آیات ۵ تا ۸۔

منبع: قرآن مجید میں