• صارفین کی تعداد :
  • 753
  • 2/5/2018 5:13:00 PM
  • تاريخ :

بیت الخلا ء کے احکام

خانہ بدوشوں کے پاس، خاص طور سے جب وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ھیں تو اتنا پانی نھیں ھوتا کہ وہ پیشاب کے مقام کو پاک کرسکیں۔ اس صورت میں کیا لکڑی اور کنکریوں سے طھارت کرنا کافی ھے؟

 
بیت الخلا ء کے احکام

س۹۴۔ خانہ بدوشوں کے پاس، خاص طور سے جب وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ھیں تو اتنا پانی نھیں ھوتا کہ وہ پیشاب کے مقام کو پاک کرسکیں۔ اس صورت میں کیا لکڑی اور کنکریوں سے طھارت کرنا کافی ھے؟

ج۔ پیشاب کا مقام پانی کے بغیر پاک نھیں ھوتا، لیکن اگر اس کا پانی سے پاک کرنا ممکن نہ ھو تو نماز صحیح ھے۔

س۹۵۔ آب قلیل سے پیشاب اور پاخانہ کے مقام کو پاک کرنے کا کیا حکم ھے؟

ج۔ پیشاب کے مقام کو پاک کرنے کے لئے پانی سے ایک مرتبہ دھونا کافی ھے اور پاخانہ کے مقام کو اتنا دھوئے کہ عین نجاست اور اس کے آثار زائل ھوجائیں۔

س ۹۶۔ پیشاب کرنے کے بعد حسب عادت نمازی پر استبراء کرنا واجب ھے جبکہ میرا عضو تناسل زخمی ھے اور استبراء کرتے وقت فشار دینے سے اس سے خون نکل آتا ھے اور طھارت کے لئے استعمال کئے جانے والے پانی میں مل کر میرے بدن اور لباس کو نجس کردیتا ھے اور اگر میں استبراء نہ کروں تو ممکن ھے کہ وہ زخم ٹھیک ھوجائے اور استبراء کرنے اور دبانے سے یقین ھے کہ وہ زخم باقی رھے گا۔ اور اگر میں اسی طرح استبراء کرتا ھوں تو یہ زخم تین ماہ کے بعد ٹھیک ھوگا۔ لھذا آپ بتائیں کہ میں استبراء کروں یا نھیں؟

ج۔ استبراء واجب نھیں ھے بلکہ اگر وہ ضرر کا موجب ھو تو ناجائز ھے ۔ ھاں اگر پیشاب کے بعد استبراء نہ کرے اور مشتبہ رطوبت نکلے تو وہ پیشاب کے حکم میں ھے۔

س۹۷۔ میں یونیورسٹی کا ایک طالب عالم ھوں، مجھے کئی سال سے ایک بیماری ھوگئی ھے جو سخت پریشانی کا سبب بن گئی ھے اور وہ یہ کہ پیشاب اور استبراء کے بعد پیشاب کے مقام سے کبھی کبھی ایسی رطوبت نکلتی ھے جس کا حجم قطرے کا 1/4 ھوتا ھے اور کبھی یہ رطوبت ۵منٹ بعد یا اس سے بھی کچھ دیر میں نکلتی ھے، ھاں جب میں پھلے استبراء نھیں کرتا تھا تو اس وقت پیشاب کے بعد کئی قطرے نکلتے تھے اور جب سے استبراء کرنا شروع کیا ھے تب سے قطرے کا 1/4  حصہ یا اس سے بھی کم نکلتا ھے اور میں نھیں جانتا کہ نکلنے والی رطوبت پاک ھے اور اس میں نماز صحیح ھے یا نھیں؟

ج۔ استبراء کے بعد نکلنے والی مشتبہ رطوبت پاک ھے مگر یہ کہ آپ کو یقین ھوجائے کہ وہ پیشاب ھے۔

س۹۸۔ پیشاب اور استبراء کے بعد کبھی پیشاب کے مقام سے بلا اختیار ایسی رطوبت نکلتی ھے جو پیشاب سے مشابہ ھوتی ھے، آیا یہ رطوبت نجس ھے یا پاک ؟ اگر انسان اس کے نکلنے کے تھوڑی دیر کے بعد اچانک متوجہ ھو تو اس کے پھلے کی پڑھی ھوئی نماز کا کیا حکم ھے؟

ج۔ استبراء کے بعد نکلنے والی رطوبت کے بارے میں اگر شک ھو کہ وہ پیشاب ھے یا نھیں تو وہ پیشاب کے حکم میں نھیں ھے اور پاک ھے اوراس سلسلے میں تحقیق و تجسس واجب نھیں ھے۔

س۹۹۔ اگر ھوسکے تو برائے مھربانی انسان سے نکلنے والی رطوبتوں کی وضاحت فرمادیجئے؟

ج۔ جو رطوبت اکثر منی کے بعد نکلتی ھے اس کا نام ” وذی “ ھے ، پیشاب کے بعد نکلنے والی رطوبت” ودی “ کھلاتی ھے ، زن و شوھر کی باھم خوش فعلی کے وقت نکلنے والی رطوبت ” مذی “ ھے اور یہ سب کی سب پاک ھیں۔ ان سے طھارت زائل نھیں ھوتی۔

س ۱۰۰۔ پائخانہ کے قدمچے یا کموڈ جس سمت کو ھم قبلہ سمجھتے تھے ،اس سے بالکل مخالف سمت میں نصب کئے گئے اور کچھ عرصہ بعد معلوم ھوا کہ قدمچے کا انحراف قبلہ سے صرف ۲۰سے ۲۲ڈگری تک ھی فرق رکھتا ھے ۔ اب برائے میربانی یہ فرمائیں کہ قدمچہ کی سمت کا بدلنا واجب ھے یا نھیں؟

ج۔ اگر انحراف اس حد تک ھو کہ عرفاً قبلہ سے انحراف صادق آجائے تو کوئی مضائقہ نھیں ھے۔

س۱۰۱۔ میرے پیشاب کی نلی میں ایک مرض ھے جس کی وجہ سے پیشاب اور استبراء کے بعد بھی پیشاب نھیں رکتا اور میں رطوبت دیکھتا ھوں ، اس سلسلے میں ، میں نے ڈاکٹر کی طرف بھی رجوع کیا اور جو اس نے کھا اس پر عمل بھی کیا لیکن کوئی فائدہ نھیں ھوا، اب میرا فرض کیا ھے؟

ج۔ استبراء کے بعد پیشاب کے نکلنے کے بارے میں شک کا اعتبار نھیں کیا جائے گا اور اگر آپ کو قطرات کی شکل میں پیشاب کے ٹپکنے کایقین ھو تو امام خمینی  ۺکے رسالہ ٴ عملہ میں مذکور مسلوس ( جسے برابر پیشاب ٹپکتا ھے) کے فریضہ پر عمل کریں، اس کے علاوہ آپ پر کوئی اور چیز واجب نھیں ھے۔

س۱۰۲۔ استنجا سے پھلے استبراء کا کیا طریقہ ھے؟

ج۔ استنجا سے پھلے اور استنجاء و پاخانہ کے مقام کو پاک کرنے کے بعد والے استبراء کے طریقے میں کوئی فرق نھیں ھے۔

س۱۰۳۔ بعض کارخانوں اور اداروں میں کام کرنے کے لئے طبی معائنہ ضروری ھوتا ھے اور اس سلسلہ میں کبھی شرم گاہ کو بھی کھولنا پڑتا ھے تو کیا وھاں کام کرنے کی ضرورت کے پیش نظر ایسا کرنا جائز ھے؟

ج۔ مکلف کے لئے ناظر محترم یعنی باشعور اور ممیز شخص کے سامنے شرمگاہ کا کھولنا جائز نھیں ھے۔ چاھے کام کے لئے وھاں پر تقرری اسی پر موقوف ھو ۔ مگر یہ کہ اس کام کا ترک کرنا حرج کا باعث ھو اور وہ کام کرنے پر مجبور ھو۔

منبع: اشرق نیٹ