• صارفین کی تعداد :
  • 4431
  • 8/11/2014
  • تاريخ :

قرآن اور اسلامي اتحاد

قرآن کریم

"اگر تيرا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ايک امت قرار ديتا ، حالانکہ وہ ہميشہ اختلاف ميں رہے ہيں مگر وہ لوگ جن پر تيرے پروردگار نے رحم کيا اور اسي کے لئے ان کو پيدا کيا ہے" (القرآن) اس بنياد پر کہا جا سکتا ہے کہ اختلاف اپني زندگي کے تمام تاريخي مراحل ميں ايک خارجي حقيقت کي طرح موجود رہا ہے اور وہ خود کسي دوسري علت کا معلول ہے جس کو خدا نے انسان کي زندگي پر مسلط کيا ہے اور وہ قانون وہ ہي قانون امتحان اور آزمائش ہے، ايسے قانون کو بس امتوں اور صالح افراد کے پروان چڑھنے اور ان کي ترقي کي راہ جانا جا سکتا ہے، ان افراد نے ہوا وہوس اور خواہشات کي پيدائش کے عليٰ رغم ترقي کي راہوں کو اپنا ليا ہے، يہ پر رونق اور زرق وبرق دنيا ليکن اندھي انسان کے لئے امتحان گاہ اور روحي اور معنوي کمالات کے حاصل کرنے کے لئے عمل کي فرصت بھي فراہم کرتي ہے "کيا لوگوں کا خيال ہے يہاں تک کہ انھوں نے کہ کہا ہم ايمان لے آئے اور بس آزاد ہو گئے اور امتحان وآزمائش سے چھٹکارا پا ليا‘ "اسي (خدا) نے موت وحيات کو پيدا کيا تاکہ تمھيں آزمائے کہ تم ميں سے کون سب سے زيادہ نيکوکار ہے"القرآن-

انسانوں ميں اختلاف کا اصلي سبب اس کي ہوا و ہوس ہے جس کو خداوندعالم نے ايک قوت جاذبہ کي مانند البتہ ارادہ واختيار کے ساتھ عقل اور فطرت کے مقابل قرار ديا ہے-

ہدايت اور تعقُّل پر ہواپرستي کو قربان کرنے کي صورت ميں زيادتي پسند افراد کي دوسروں کے اوپر زيادتيوں اور اشخاص کے مصالح ومنافع کے متضاد ہونے اور نامطلوب رقابت کي وجہ سے مقام ومنزلت جاہ وحشم قدرت وشہوت کو حاصل کرنے کے لئے يہ اختلاف کا پہلا وہ پودا تھا جو جس نے انساني تاريخ کے پہلے روز ہي جنم لے ليا تھا اور ملائکہ انسان کي خلقت کي طبيعت کي بنياد اسي چيز کي اميد رکھتے تھے-

وہ اختلافات جن کا منشا ہوا وہوس تھا ايسي فضا ميں نمودار ہوئے کہ جس سے انسان کي زندگي تہہ وبالا ہوگئي اور ايک عميق تبديلي کے ضمن ميں انسان کے اندرپيچيدگي اور ترکيب پيدا ہوگئي، نتيجے ميں آدمي فقط اپنے تفکرات اور صلاحتيوں کي بنياد پر زندگي کي پيچيدہ اور عميق مشکلات پر تنہا کامياب نہيں ہوسکتا تھا، يہ عميق تبديلي ايک دوسري تبديلي ظاہر ہونے يعني کتب آسماني نازل ہونے اور پيغمبروں کے مبعوث ہونے کے ہمزمان تھي، مقصديہ تھا کہ لوگوں کي ہدايت وصلاح کي طرف راہنمائي ہو اور پيغمبران الٰہي، حق وعدالت کے ساتھ لوگوں کے اختلاف کا فيصلہ کريں، اس کے علاوہ قرآن مجيد نے لوگوں کے اختلافت کو ختم کرنے، فردي اور اجتماعي طور سے ترقي وکمال کي راہ کھولنے اور انسانوں کو عبرت حاصل کرنے اور ان کو آگاہ کرنے کے لئے دو سنتوں کي بنياد ڈالي ہے-( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

مشکلات زندگي ميں قرآن کي رہنمائي

قرآن کو دل سے قبول کرو