• صارفین کی تعداد :
  • 4304
  • 8/2/2014
  • تاريخ :

اتحاد کے قرآني راستے

قرآن کریم

يہ مسلّم ہے حقيقت ہے کہ آج عالم اسلام جن اہم مشکلات سے دست بہ گريبان ہے ان ميں سے ايک اسلامي اتحاد ہے، اگر يہ کہيں ائمہ عليہم السلام اپني پوري زندگي ميں قرآن کريم اور سنت نبوي کي بنياد پر عالم خارج ميں جس چيز کے تحقق کي سعي وکوشش کرتے رہے وہ اسلامي قوانين کے دائرہ ميں امت اسلامي کا اتحاد تھا تو بے جانہ ہوگا، ان عظيم پيشواۆں کا مقصد يہ تھا کہ کمين گاہ ميں چھپے دشمن سے اسلام کي عظمت وعزت کي محافظت کريں، امت اسلامي کے بنانے اور اس کو شکوفا کرنے ميں ان پيشواۆں کي فکريں يہ تھيں کہ اسلام کي بڑي مصلحت کو ترجيح دے کر الله کے راستے کي طرف دعوت دينے کي مثال قائم کريں اور اس ميں کوئي شک نہيں ہے کہ يہ شکوفائي بغير ميل ومحبت اور نيک گفتار کے ممکن نہيں ہے-

اسلامي اتحاد تمدنوں سے مقابلہ کرنے کے لئے بہت ضروري امر ہے ليکن يہ اتحاد شديداً زمينہ سازي اور انگيزہ کا محتاج ہے-

اسلامي اتحاد کے  ليۓ انگيزہ

اسلامي اتحاد ايک حقيقي طاقت کو فراہم کرتا ہے جو خدا کے بعد مسلمانوں کے لئے تہذيب اور تمدنوں کے مقابلہ ميں تکيہ گاہ بن سکتي ہے، اگرچہ مسلمان عظيم انساني، فراوان مادّي امکانات، مہم اسٹراٹيجک موقعيت، معنوي بلند حوصلوں، پيشرفتہ اعتقادات اور نظريات سے بہرہ مند ہيں ليکن اگر يہ پراکندہ اجزاء مترتّب نہ ہوں اور ان مي ہماہنگي نہ پائي جائے تو دشمن کے پنجے کے ايک لقمے سے زيادہ نہ ہوں گے-

اسلامي اتحاد منابع اسلامي ميں بحث وتحقيق، استنباط واجتہاد کا زمينہ فراہم کرسکتا ہے، اور اتحاد ہي کے سبب ثقافتوں کا مقابلہ کرنے اور انساني مشکلات کو حل کرنے ميں کہ جو مادّي ترقيوں اور علمي اجتماعي تغير وتبدّل کا نتيجہ ہيں، مدد مل سکتي ہے-

يہ واضح ہے کہ اس وسيع تحقيقات کا امکان محض سمجھوتے، اطمينان اور عقيدے کے وسائل کي آزادي، ايک دوسرے کے عقيدہ کا احترام او ربرادرانہ اور دوستانہ کوشش سے ہي ممکن ہے-

اسلامي اتحاد انسان کي زندگي ميں مادّي اور معنوي پہلووں کي ترقي اور رشد کے لئے مقدمات فراہم کر سکتا ہے- ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

 قرآن سے زندگي ميں  بہار

اہميت کتاب الہي