• صارفین کی تعداد :
  • 3082
  • 4/11/2011
  • تاريخ :

انجام بخیر (حصّہ دوّم)

مسکراہٹ

پطرس۔۔ (تنہائی میں سربسجود ہو کر) باری تعالیٰ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے مجھے اپنی ناچیز محبت کے ثمر کے ليے بہت دنوں انتظار میں نہ رکھا۔ تیری رحمت کی کوئی انتہا نہیں لیکن ہماری کم مائیگی اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ تیرا ہی فضل وکرم ہے کہ تو میرے وسیلے سے اوروں کو بھی رزق پہنچاتا ہے اور جو ملازم میری خدمت کرتا ہے اس کا بھی کفیل تونے مجھ ہی کو بنا رکھا ہے۔ تیری رحمت کی کوئی انتہا نہیں اور تیری بخشش ہمیشہ ہمیشہ جاری رکھنے والی ہے۔

(کمرے میں پھر ایک پر اسرار سی روشنی چھا جاتی ہے اور فرشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سنائی دیتی ہے)۔

کچھ دیر کے بعد پطرس سجدے سے سر اٹھاتا ہے اور ملازم کو آواز دیتا ہے۔

پطرس۔۔ اے خدا کے دیانت دار اور محنتی بندے! ذرا یہاں تو آئیو!

ملازم۔۔ (باہر سے) اے میرے خوش خصال آقا! میں کھانا پکا کر آؤں گا کہ تعجیل شیطان کا کام ہے۔

(ایک طویل وقفہ جس کے دوران درختوں کے سائے پہلے سے دگنے لمبے ہوگئے ہیں)۔

پطرس۔۔ آہ انتظار کی گھڑیاں کس قدر شیریں ہیں۔ کتوں کے بھونکنے کی آواز کس خوش اسلوبی سے بینڈ کی آواز کے ساتھ مل رہی ہے۔

(سربسجود گر پڑ تا ہے)۔

پھر اٹھ کر میز کے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ اٹھنیوں پر نظر پڑتی ہے ان کو فوراً کتاب کے نیچے چھپا دیتا ہے۔

پطرس۔۔ آہ! مجھے زرودولت سے نفرت ہے۔ خدایا میرے دل کو دنیا کی لالچ سے پاک رکھیو!

(ملازم اندر آتا ہے)۔

پطرس۔۔ اے مزدور پیشہ انسان مجھے تم پر رحم آتا ہے کہ ضیائے علم کی ایک کرن بھی کبھی تیرے سینے میں داخل نہ ہوئی۔ تاہم خداوند تعالیٰ کے دربار میں تم ہم سب برابر ہیں، تو جانتا ہے آج مہینے کی آخری تاریخ ہے، تیری تنخواہ کی ادائیگی کا وقت سر پر آگیا۔ خوش ہو کہ آج تجھے اپنی مشقت کا معاوضہ مل جائے گا۔ یہ تین اٹھنیاں قبول کر اور باقی کے ساڑھے اٹھارہ روپے کے ليے کسی لطیفہ غیبی کا انتظار کرو۔ دنیا امید پر قائم ہے اور مایوسی کفر ہے۔

(ملازم اٹھنیاں زور سے زمین پر پھینک کر گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔ بینڈ زور سے بجنے لگتا ہے)۔

پطرس۔۔ خدایا تکبر کے گناہ سے ہم سب کو بچائے رکھ اور ادنیٰ طبقے کے لوگوں کا سا غرور ہم سے دور رکھ! (پھر کام مشغول ہوجاتا ہے)۔

باورچی خانے میں کھانا جلنے کی ہلکی ہلکی بو آرہی ہے۔۔۔ ایک طویل وقفہ جس کے دوران میں درختوں کے سائے چوگنے لمبے ہوگئے ہیں۔ بینڈ بدستور بج رہا ہے۔ یک لخت باہر سڑک پر موٹروں کے آکر رک جانے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد کوئی شخص دروازے پر دستک دیتا ہے۔

پطرس۔۔ (کام پر سے سر اٹھا کر) اے شخص تو کون ہے؟

ایک آواز۔۔ (باہر سے) حضور میں غلاموں کا غلام ہوں اور باہر دست بدستہ کھڑا ہوں کہ اجازت ہو تو اندر آؤں اور عرض حال کروں۔

پطرس۔۔ (دل میں) میں اس آواز سے ناآشنا ہوں لیکن لہجے سے پایا جاتا ہے کہ بولنے والا کوئی شائستہ شخص ہے۔ خدایا یہ کون ہے (بلند آواز سے) اندر آجایئے۔

(دروازہ کھلتا ہے اور ایک شخص لباس فاخرہ پہنے اندر داخل ہوتا ہے گو چہرے سے وقار ٹپک رہا ہے لیکن نظریں زمین دوز ہیں۔ ادب و احترام سے ہاتھ باندھے کھڑا ہے)۔

 تحریر  : پطرس بخاری

          کتاب کا نام  :  پطرس کے مضامین

       پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

بچت

روپ

شوہر بیگم

ریل

بس