• صارفین کی تعداد :
  • 2750
  • 4/10/2011
  • تاريخ :

شیخ صدوق كے بچپن اور نوجوانی كا دور

شیخ صدوق

شیخ صدوق  كے بچپن اور نوجوانی كا دور

جس زمانے میں خدا نے علی كو محمد عطا كیا آپ كے والد جوانی كے ایام ماضی كے حوالے كر چكے تھے اور دینی مسائل اور اسلامی آداب محدثین اور علماء كے مكتب سے حاصل كر چكے تھے، اس زمانے میں ان كا شمار عالم اسلام كی بزرگ شخصیت اور قم كی شیعہ قوم كے رئیس كی حیثیت سے ھوتا تھا ۔

شاید خدا كی حكمت تھی كہ محمد كا اس خاندان میں ورود اس وقت ھو جب تجربہ اور انتظار صحیح پرورش كا بستر لگا چكے ھوں اور یہ تازہ وارد نھال (پودا) علم و ادب كے كشت زار میں پھولے پھلے، اسی بنا پر ماں نے آپ كو بھت اچھے انداز میں پالا پوسا اور باپ نے بھترین طریقے سے سنوارا ۔

شیخ صدوق  كا تعلیمی دور

”محمد“ نے بچپنے كے سالوں میں حصول علم دین كا آغاز اپنے والد ماجد سے كیا اور آپ كی ابتدائی تعلیم اور علوم كی پھلی منزلیں شھر قم میں ھی طے ھوئیں جو كہ اس وقت علماء اور محدثین كا شھر تھا ۔

وہ بےانتھا لگن اور سعی بلیغ كے ساتھ تحصیل علوم میں لگ گئے، كوئی دن ایسا نھیں گزرتا تھا جب ان كے علم میں اضافہ نہ ھو، انھوں نے اكثر چیزیں اپنے والد علی بن بابویہ سے سیكھیں اس كے علاوہ علماء كے علمی جلسوں میں بھی حاضری دی جب وہ علم كے بڑے مدارج تك پھونچ گئے تو انھوں نے بزرگ اساتیذ اور محدثین سے كسب فیض كے سلسلے میں سفر كرنا شروع كیا ۔ شاید یہ كھنا بیجا نہ ھوگا كہ ان كی كامیابی كا ایك راز زیادہ اساتیذ كی خدمت میں حاضری اور ان كے خرمن علم سے خوشہ چینی تھا ۔ اسی بنا پر آپ كے اساتیذ كا شمار كرنا قدرے مشكل ھے ۔

محقق عالم دین شیخ عبد الرحیم ربانی شیرازی شیخ صدوق كی كتاب " معانی الاخبار " كے مقدمہ میں جو آپ كی سوانح حیات كے سلسلے میں تحریر كیا ھے اس میں صدوق كے ۲۵۲ اساتیذ كا نام ذكر كرتے ھیں ۔

شیخ صدوق نے قم میں جن اساتیذ سے كسب فیض كیا ان میں محمد بن حسن بن ولید، احمد بن علی بن ابراھیم قمی، محمد بن یحیی بن عطار اشعری قمی، حسن بن ادریس قمی اور حمزہ بن محمد علوی جیسے بزرگان كا نام لیا جا سكتا ھے ۔

ھم اس محنتی اور جفا كش عالم دین كے سفر كے باب میں ان میں سے بعض حضرات كا ذكر كریں گے جن سے آپ نے ان سالوں میں مختلف بلاد اور علاقوں میں كسب فیض كیا ھے اور احادیث اخذ كی ھیں ۔

مولف : محمد حسین فلاح زادہ

مترجم : ذیشان حیدر زیدی

(گروه ترجمه سایت صادقین)


متعلقہ تحریریں:

سید رضی  اور ایك بے موقع غروب

سید رضی اور علماء اہل سنت كی نگاہ میں

سید رضی  اور عظیم ذمہ داری

سید رضی  اور بحر بے كراں كا ایك قطرہ

سید رضی اور تربیتی جلوے