• صارفین کی تعداد :
  • 751
  • 9/28/2017
  • تاريخ :

پيغمبروں كے بعثت كى اہم غرض نفوس كا پاكيزہ كرنا تھا

پيغمبروں كے بعثت كى اہم غرض نفوس كا پاكيزہ كرنا تھا

 

پيغمبروں كا سب سے بڑا ہدف اور غرض انسانى نفوس كى پرورش كرنا اور نفوس انسانى كو پاك و پاكيزہ بنانا تھا_

 

خداوند عالم قرآن مجيد ميں ارشاد فرماتا ہے كہ '' خداوند عالم نے مومنين پر احسان كيا ہے كہ ان سے ايك رسول ان كے درميان بھيجا ہے تا كہ وہ ان كے لئے قرآنى آيات كى تلاوت كرے اور ان كے نفوس كو پاك و پاكيزہ بنائے اور انہيں كتاب اور حكمت كى تعليم دے گرچہ وہ اس سے پہلے ايك كھلى ہوئي گمراہى ميں غرق تھے_[1]

تعليم و تربيت كا موضوع اس قدر مہم تھا كہ پيغمبروں كے بھيجنے كى غرض قرار پايا اور خداوند عالم نے اس بارے ميں اپنے بندوں پر احسان كيا_ انسان كى فردى اور اجتماعى شخصيت كى سعادت اور دنيوى اور اخروى شقاوت اس موضوع سے وابستہ ہے كہ كس طرح انسان نے اپنے آپ بنايا ہے اور بنائے گا_ اسى وجہ سے انسان كا اپنے آپ كو بنانا ايك زندگى ساز سرنوشت ساز كام شمار ہوتا ہے_ پيغمبر(ص) آئے ہيں تا كہ خودسازى اور نفس انسانى كى پرورش اور تكميل كا راستہ بتلائيں اور مہم ا ور سرنوشت ساز كام كي رہنمائي اور مدد فرمائيں پيغمبر آئے ہيں تا كہ نفوس انسانى كو رذائل اور برے اخلاق اور حيوانى صفات سے پاك اور صاف كريں اور اچھے اخلاق اور فضائل كى پرورش كريں_ پيغمبر عليہم السلام آئے ہيں تا كہ انسانوں كو خودسازى كا درس ديں اور برے اخلاق كى شناخت اور ان پر كنٹرول اور خواہشات نفسانى كو قابو ميں ركھنے كى مدد فرمائيں اور ڈرانے اور دھمكانے سے ان كے نفوس كو برائيوں اور ناپاكيوں سے پاك و صاف كريں_ وہ آئے ہيں تا كہ فضائل اور اچھے اخلاق كے پودے كو انسانى نفوس ميں پرورش ديں اور بار آور بنائيں اور اپنى راہنمائي اور تشويق اور ترغيب سے ان كے مددگار بنيں_

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا ہے كہ '' ميں تمہيں اچھے اخلاق كى وصيت كرتا ہوں كيونكہ خداوند عالم نے مجھے اسى غرض كے لئے بھيجا ہے_[2]

 

نيز پيغمبر عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' ميں اسلئے بھيجا گيا ہوں تا كہ اچھے اخلاق كو نفوس انسانى ميں مكمل كروں_[3]

امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' خداوند عالم نے پيغمبروں كو اچھے اخلاق كے لئے منتخب كيا ہے جو شخص بھى اپنے آپ ميں اچھے اخلاق موجو د پائے تو خداوند عالم كا اس نعمت پر شكريہ ادا كرے اور جو شخص اپنے آپ ميں اچھے اخلاق سے محروم ہو اسے اللہ تعالى كى بارگاہ ميں تضرع اور زارى كرنى چاہئے اور اللہ تعالى سے اچھے اخلاق كو طلب كرنا چاہئے_[4]

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' اگر بالغرض ميں بہشت كى اميد نہ ركھتا ہوتا اور دوزخ كى آگ سے نہ ڈرتا ہوتا اور ثواب اور عقاب كا عقيدہ بھى نہ ركھتا ہوتا تب بھى يہ امر لائق تھا كہ ميں اچھے اخلاق كى جستجو كروں كيونكہ اچھے اخلاق كاميابى اور سعادت كا راستہ ہے_[5]

امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' ايمان كے لحاظ سے كاملترين مومنين وہ ہيں كہ جن كے اخلاق بہتر ہوں_[6]

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمايا ہے كہ '' قيامت كے دن نامہ اعمال ميں كوئي چيز حسن خلق سے افضل نہيں ركھى جائيگي_[7]

 

ايك آدمى رسول خدا كى خدمت ميں حاضر ہوا اور عرض كى يا رسول اللہ دين كيا ہے؟ آپ(ص) نے فرمايا ''حسن خلق'' وہ آدمى اٹھا اور آپ(ص) كے دائيں جانب آيا اور عرض كى كہ دين كيا ہے؟ آپ(ص) نے فرمايا ''حسن خلق'' يعنى اچھا اخلاق_ پھر وہ گيا اور آپ كے بائيں جانب پلٹ آيا اور عرض كى كہ دين كيا ہے ؟ آپ(ص) نے اس كى طرف نگاہ كى اور فرمايا كيا تو نہيں سمجھتا؟ كہ دين يہ ہے كہ تو غصہ نہ كرے_[8]

اسلام كو اخلاق كے بارے ميں خاص توجہہ ہے اسى لئے قرآن مجيد ميں اخلاق كے بارے ميں احكام كى نسبت زيادہ آيات قرآنى وارد ہوئي ہيں يہاں تك كہ قرآن كے قصوں ميں بھى غرض اخلاقى موجود ہے_ تمہيں احاديث ميں اخلاق كے بارے ہزاروں حديثيں مليں گى اگر دوسرے موضوعات سے زيادہ حديثيں نہ ہوئيں تو ان سے كمتر بھى نہيں ہيں_ اخلاق كے بارے ميں ثواب اور خوشخبرياں جو ذكر ہوئي ہيں دوسرے اعمال كے ثواب سے كمتر نہيں ہيں_ اور برے اخلاق سے ڈرانا اور سزا جو بيان ہوئي ہے وہ دوسرے اعمال سے كمتر نہيں ہيں_ اسى لئے اسلام كى بنياد اخلاقيات پر تشكيل پاتى ہے_ مناسب نہيں كہ اسے دين كے احكام ميں دوسرا درجہ ديا جائے اور دينداروں كے لئے آرائشے اور خوبصورتى كا درجہ ديا جائے اگر احكام ميں امر اور نہى ہيں تو اخلاق ميں بھى امر اور نہى موجود ہيں اور اگر احكام ميں تشويق اور تخويف ثواب اور عقاب اور جزا ء اور سزا موجود ہے تو اخلاق ميں بھى يہى امور موجود ہيں_

پس احكام شرعى اور اخلاق ميں كونسا فرق موجود ہے؟ اگر ہم سعادت اور كمال كے طالب ہيں تو اخلاقيات سے لاپرواہى نہيں برت سكتے ہم اخلاقى واجبات كو اس بہانے سے كہ يہ اخلاقى واجبات ہيں ترك كرديں اور اخلاقى محرمات كو اس بنا پر كہ يہ اخلاقى محرمات ہيں بجالاتے رہيں_ اگر نماز واجب ہے اور اس كا ترك كرنا حرام اور موجب سزا ہے تو عہد كا ايفا بھى واجب ہے اور خلاف وعدہ حرام ہے اور اس پر بھى سزا ہوگى پس ان دونوں ميں كيا فرق ہے؟

واقعى متدين اور سعادت مند وہ انسان ہے كہ جو احكام شرعيہ اور تكاليف الہى كا پابند ہو اور اخلاقيات كا بھى پابند ہو بلكہ سعادت اور كمال معنوى اور نفسانى ميں اخلاقيات بہت زيادہ اہميت ركھتے ہيں جيسے كہ بعد ميں ذكر كريں گے_

 

[1]- لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آياتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ إِنْ كانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ- آل عمران/ 164.

[2]- قال رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله: عليكم بمكارم الاخلاق فانّ اللّه عز و جل بعثنى بها- بحار/ ج 69 ص 375.

[3]- عن النبى صلّى اللّه عليه و آله انه قال: انّما بعثت لاتمم مكارم الاخلاق- مستدرك/ ج 2 ص 282.

[4]- قال ابو عبد اللّه عليه السّلام: انّ اللّه تبارك و تعالى خصّ الانبياء بمكارم الاخلاق، فمن كانت فيه فليحمد اللّه على ذلك، و من لم يكن فليتضرع الى اللّه و ليسئله- مستدرك/ ج 2 ص 283.

[5]- قال امير المؤمنين عليه السّلام: لو كنّا لا نرجو جنة و لا نخشى نارا و لا ثوابا و لا عقابا لكان ينبغى لنا ان نطلب مكارم الاخلاق فانها مما تدلّ على سبيل النجاح- مستدرك/ ج 2 ص 283.

[6]- عن ابى جعفر عليه السّلام قال: انّ اكمل المؤمنين ايمانا احسنهم خلقا- كافى/ ج 2 ص 99.

[7]- قال رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله: ما يوضع فى ميزان امرئ يوم القيامة افضل من حسن الخلق- كافى/ ج 2 ص 99.

[8]- جاء رجل الى رسول اللّه عليه و آله من بين يديه فقال: يا رسول اللّه ما الدين؟ فقال:

حسن الخلق. ثم اتاه من قبل يمينه فقال: يا رسول اللّه ما الدين؟ فقال: حسن الخلق. ثم اتاه من قبل شماله فقال: ما الدين؟ فقال: حسن الخلق. ثم اتاه من ورائه فقال: ما الدين؟ فالتفت اليه فقال: اما تفقه؟ هوان لا تغضب- محجة البيضاء/ ج 5 ص 89.