• صارفین کی تعداد :
  • 4059
  • 2/16/2015
  • تاريخ :

دور حاضر  میں تبدیلیاں

مرسي مطروح کي مسجد

 

موجود دور میں اسلام اور مغرب کے درمیان تعلقات ایک نۓ موڑ پر ہیں ۔ اس دور میں پیش آنے والے واقعات نے  دونوں کی تاریخی آویزش پر اثرات مرتب کیے ہیں اور ہر دو فریق جن خدشات، خطرات اور تنازعات کا شکار ہوئے وہ عالمی نقشہ پر بعض بنیادی تبدیلیوں کا سبب بن گئے۔ مغربی اقوام خصوصاً امریکہ کے سامراجی عزائم عملی شکل اختیار کر گئے اور مغرب کے تمام حقوق انسانی، سرحدی آزادی، ملکی خود مختاری اور امن عالم کے نام نہاد نعروں کی قلعی کھل کر سامنے آ گئی۔ مغرب کے بعض نمائندہ مفکرین نے سیاسی، سامراجی عزائم کو نئے عالمی نظام (نیو ورلڈ آرڈر) کا چوغا پہنا کر مسلم ممالک کے انرجی کے وسائل پر عسکری قوت سے قبضہ کرنے کے گھناونے عمل کو امریکہ کی ـ’’قومی سا لمیت کے تحفظ‘‘ کا نام دیا۔ ۱۹۹۲ء میں امریکی مفکر سیموئل ہنٹنگٹننے اپنے ایک مقالہ میں جس تہذیبی ٹکراو کے خدشہ کا اظہار کیا تھا وہ عملاً پہلے سے تحریر شدہ ایک کہانی کے خاکہ کی طرح ستمبر ۲۰۰۱ء میں افغانستان اور عراق پر یلغار کی شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ واقعات کے اس منطقی تسلسل نے مسلم ممالک کی غالب آبادی کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ان کے فرمانروا جس امریکہ یا مغرب دوستی کا دم بھرتے ہیں وہ کتنی کھوکھلی، ناپائیدار اور مغرب کے مفاد پر مبنی ہے۔
    ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء نے جہاں منفی تاثرات پیدا کیے وہیں خود مغرب میں اس سانحہ نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تجسّس اور حقیقت حال کو سمجھنے کی خواہش کو بیدار کیا۔ اس واقعہ کے ایک ماہ کے اندر امریکہ کے کتب فروشوں کے پاس قرآن کریم کے جتنے نسخے انگریزی ترجمہ کے ساتھ موجود تھے فروخت ہو گئے اور اسلام پر کتب کی بڑی مانگ پیدا ہو گئی۔ قرآن کریم نے بالکل صحیح کہا ہے کہ بعض چیزوں سے انسان کو کراہت آتی ہے جب کہ ان میں رحمت ہوتی ہے اور بعض چیزیں اچھی معلوم ہوتی ہیں جب کہ ان میں ضرر ہوتا ہے۔ اسلام اور مغرب کی اس تازہ آویزش نے دونوں جانب دانشوروں اور محققین کو اس نئی صورتِ حال کے تجزیہ اور اس کے پس ِ منظر میں چھپے اسباب پر تفکر کی دعوت دی اور مغرب جو اپنے سامراجی دورسے استشراق کے زیرِ عنوان مسلم ممالک کی زبانوں، ثقافت اور تاریخ کو سمجھنے میں مصروف تھا اب اس کی اس کاوش میں مزید اضافہ ہوا۔  ( جاری ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

اسلام اور مغرب کي نظر ميں دہشت گردي

محترمہ والٹرور کے خيالات اسلام کےبارے ميں