• صارفین کی تعداد :
  • 1486
  • 12/16/2011
  • تاريخ :

بندے کے وجود ميں خدائي نشانياں

الله

(سَنُرِيھِم آياتِنَا فيِ الافاقِ وَ فِي انفُسِھم حتيٰ يَتبيَّن لَھُم انَّہُ الحَقُّ) (1) ہم اپني نشانيوں کو دنياميں اورانسان کے وجو د ميںلوگوں کو دکھلا ئيں گے تاکہ وہ جا ن ليں کہ خدا حق ہے -

(وَفِي خَلقِکُم وَمَا يَبُثُّ مِن دَا بّةٍ آيا تُ لقومٍ يُوقنُونَ) (2) اور خود تمہا ري خلقت ميں بھي اور جن جانوروں کو وہ پيدا کرتا رہتا ہے ، ان ميں بھي صاحبان يقين کے لئے بہت ساري نشانياں ہيں - (وَمِن آياتِہ ان خَلقَلکُم مِّن تُرابٍ ثُمّ اِذا انتُم بَشَرُ تَنتَشِرُون)(3) اس کي نشانيوں ميں سے يہ بھي ہے کہ اس نے تمہيں خاک سے پيدا کيا اور انسان بنايا پھر تم زمين پر پھيل گئے -

جب کہ دنيا کے چوٹي کے دانشورا ور مفکرين ،مختلف النوع اشياء کا مختلف انداز ميں معائنہ کر رہے ہيں ليکن خود وجود انسان ايک نا شناختہ وجود بنا ہوا  ہے اور برسوں درکار ہيں اس بات کے لئے کہ دنيا کے دانشور حضرات دنيا کے اس سب سے بڑے معمہ کي گتھي کو سلجھا سکيں اور اسکے زاويئے کو آشکار کر سکيں اور شايد يہ حل نہ ہو نے والي پہيلي ہے-

جسم انساني

اصحاب امام صادق (ع) ميں سے ايک کہتے ہيں کہ ميں نے ہشام بن حکم (امام جعفر صادق ںکے شاگرد ) سے پوچھا کہ اگر کو ئي مجھ سے يہ سوال کرلے کہ تم نے خدا کو کيسے پہچانا تواس کا کيا جواب ہو گا؟ ہشام کہتے ہيں ہم اس کے جو اب ميں يہ کہيں گے کہ خدا کوہم نے اپني ہي ذات کے ذريعہ پہچانااس لئے کہ وہ تمام چيزوں ميں سب سے زيادہ نزديک ہے، ميں يہ ديکھ رہا ہو ں کہ ميرے جسم کي اتني عظيم عمارت مختلف اجزاء پر مشتمل ہے اور ہر کو ئي اپنے مخصوص انداز و مقام پر رواں دواں ہے ان اجزاء کا نظم و ضبط اس بات کا غماز ہے کہ ان کا خالق بہت ہي متين اور دقيق ہے- اور (يہ جسم) مختلف اقسام کے رنگ و روغن سے آراستہ ہے ، ميں اس بات کا قطعي مشاہدہ کر رہا ہوں کہ ميرے مختلف النوع حواس، طرح طرح کے اعضا ء و جوارح جيسے آنکھ کان، شامہ، ذائقہ، لا مسہ، خلق کئے، اور تمام عقلاء کي عقل اس بات کو محال جا نتي ہے کہ ايک منظم پروگرام کسي ناظم کے بغير يا کوئي اچھوتي اور نفيس تصوير کسي ماہر نقاش کے بغير وجو د ميں آجا ئے لہٰذا ميں نے اس سے اس بات کا پتہ لگا يا کہ ميرے جسم کا نظام ميرے بدن کي نقاشي اس قانون سے مستثني (جدا ) نہيں ہے بلکہ کسي خالق کي محتاج ہے- (4)

ايک شخص نے امام رضا ع سے وجو د خدا پر دليل طلب کي تو آپنے فرمايا :

''علَمتُ اَنَّ لھذا البنيان بانياً فاقررتُ بہ''

ميں نے اپنے وجود ہستي پر نظر کي تو اس بات کا انکشاف کيا کہ کو ئي اس کا خالق ہے لہٰذا ميں نے اس کے وجو د کا اقرار کرليا- (5)

صادق آل محمد فرماتے ہيں : مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو يہ تصور کرتا ہے کہ خدا بندوں کي نظروں سے پو شيدہ ہے جبکہ اس کي خلقت کے آثار خود اپنے آپ ميں ديکھتا ہے اور وہ ايسے آثار ہيں جو عقلوں کو مبہوت اور غلط افکار کو باطل کر ديتے ہيں -

ميرے جان کي قسم! اگر نظام خلقت ميں غور کر ليتے تو يقينا خالق کائنات کي جانب مدلل ثبو توں کے ذريعہ پہنچ جاتے- (6)

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان

حوالہ جات :

(1)سورہ فصلت آيہ :53

(2) سو رہ جا ثيہ آيہ:4

(3) سورہ روم آية: 2ظ 

( 4) بحار الا نوار ج 3، ص ،5ظ 

(5) اصول کا في کتاب التوحيد - با ب :1 حديث-3

(6)بحار الانوار ج3،ص 152


متعلقہ تحريريں:

قضا و قدر اور عقيدہ توحيد