• صارفین کی تعداد :
  • 5390
  • 2/2/2008
  • تاريخ :

شادی کی پیشکش

 

زن

کیا مرد کا عورت سے شادی کی پیشکش کرنا عورت کی توھین ھے

گزشتہ زمانہ سے لڑکا یااس کے گھر والے پیغام لیکرلڑکی یا اس کے گھر والوں سے تقاضا کرتے تھے یہ عورتوں کی حیثیت اور احترام کی حفاظت کا ایک بھت بڑاسبب رھا ھے ۔

طبیعت نے مرد کو طلب ، عشق اور تقاضے کا مظھر بنایا ھے اور عورت کو مطلوب اور معشوق ھونے کا مظھر۔ طبیعت نے عورت کو پھول اور مرد کو بلبل ، عورت کو شمع اور مرد کو پروانہ قرار دیا ھے ۔ یہ خلقت کی ایک حکیمانہ اور شاھکار تدبیر ھے کہ مرد کی طبیعت اور غریزہ میں نیاز اور طلب کو رکھا ھے اور عورت کی طبیعت و غریزہ میں ناز و نزاکت اور جلوہ ۔ اسی طرح سے مرد کی جسمانی قوت کے مقابلہ میں عورت کے جسمانی ضعف اور کمزوری کا ازالہ کیا ھے ۔

عورت کی حیثیت اور احترام کے خلاف ھے کہ مرد کی تلاش میں جائے ۔ مرد کے لئے یہ بات قابل برداشت ھے کہ کسی عورت سے پیشکش کرے اور منفی جواب سنے ، دوسری عورت سے پیشکش کرے اور جواب ردّ سنے۔ یھاں تک کہ کوئی عورت اس سے شادی کی رضایت ظاھر کر دے لیکن عورت چاھتی ھے کہ محبوب اور معشوق ھوکر مرد کے دل میں جگہ پائے تاکہ اس کے پورے وجود پر حکومت کرے۔ اس کے لئے قابل برداشت اور اس کی طبیعت کے موافق نھیں ھے کہ کسی مرد کو اپناشوھرھونے کی دعوت دے اور منفی جواب پاکر دوسرے مرد کی تلاش کرے ۔

مشھور و معروف امریکی فلسفی ولیم جیمس کے مطابق حیا اور ظریفانہ خودداری عورت کا غریزہ ھی نھیں ھے بلکہ دختر ان حوا نے پوری تاریخ میں اس بات کو سمجھ لیا ھے کہ ان کی عزت اور احترام اس میں ھے کہ مرد کی تلاش میں نہ جائیں اور اپنے کو بے آبرو نہ کریں نیز اپنے آپ کو مردوں کی پھونچ سے دور رکھیں ۔ عورتوں نے پوری تاریخ میں اس بات کو درک کیا ھے اور اپنی بیٹیوں کو سکھایا ھے ۔

دسته گل

 

یہ حالت صرف نوع بشر سے مخصوص نھیں ھے بلکہ دوسرے حیوانات بھی اسی طرح ھیں۔ ھمیشہ یہ مذکر کی ذمہ داری رھی ھے کہ اپنے آپ کو مونث کا محتاج اور دلباختہ ظاھر کرے ۔

 

عورت کو جو ذمہ داری دی گئی ھے وہ یہ ھے کہ خوبصورتی ،لطیف انداز اور ظریفانہ خودداری اور بے نیازی کے ساتھ جنس مخالف کے دل کازیادہ سے زیادہ شکار کرے اور اس کو اپنے حساس دل اورارادہ و اختیار سے اپنا خدمت گزار بنا لے ۔

تعجب ھے کہ بعض لوگ کھتے ھیں کہ مدنی قانون کیوں ایسا ھے کہ اس نے مرد کو عورت کا خریداربتایا ھے !سب سے پھلے یہ کہ یہ بات مدنی قانون سے مربوط نھیں ھے بلکہ قانون خلقت سے مربوط ھے ۔ دوسرے یہ کہ آیا ھر خریداری مالکیت اور مملوکیت کے اعتبار سے ھوتی ھے ؟ طالب علم علم کا خریدار ھے ، متعلم ، معلم کا خریدار ھے اور ھنرمند ، ھنر کا خریدار ، کیا ان کو مالکیت کانام دیا جاسکتا ھے؟ نھیں بلکہ ملکیت علم و عالم ، ھنر اور ھنر مند کی حیثیت کے منافی اور خلاف شمار کیا جا سکتا ھے ۔ مرد، عورت کے وصال کا خریدار ھے نہ کہ اس کے جسم کا۔ عورت کا فن یہ رھا ھے کہ مرد کو ھر حالت میںاور ھر مقام پر اپنی چوکھٹ پر کھینچ لے ۔

 

آج عورتوں کے حقوق کے دفاع کے نام پر کس طرح سے عورت کے سب سے بڑے امتیاز ، شرف اور حیثیت کو داغدار کیا جا رھا ھے ؟!

یھی وہ بات ھے جس کے لئے کھا گیاھے کہ یہ لوگ بے چاری عورت کے ابروٴوں کو صحیح کرنے کے نام پر اس کی آنکہ پھوڑے ڈال رھے ھیں ۔

مرد کی طرف سے پیشکش ،عورت کی حیثیت اور احترام کی حفاظت کے لئے ایک عاقلانہ تدبیر ھے ۔

جیساکہ بیان کیا گیا کہ قانون خلقت میں مرد نیاز ، طلب اور خواھش کا مظھر اور عورت مطلوبیت اور محبوبیت کی مظھر ھے ۔ یھی اصول عورت کی حیثیت اور احترام کا بھترین ضامن اور مرد کی جسمانی طاقت کے مقابلہ میں اس کے ضعف اور کمزوری کا ازالہ کرنے والاھے نیز مرد وعورت کی مشترک زندگی میں تعادل اور توازن کی حفاظت کا بھترین سبب اور عامل بھی ھے ۔ یہ ایک طرح کا طبیعی امتیاز اور برتری ھے جو عورت کو دی گئی ھے اور ایک طرح کی طبیعی ذمہ داری ھے جو مرد کے کاندھے پر رکھی گئی ھے ۔

وہ قوانین جو انسان بناتا ھے یا دوسرے لفظوں میں قانونی تدبیر یں ، جن کو انسان استعمال کرتا ھے، میں عورت کے اس امتیاز اور مرد کی اس ذمہ داری کی حفاظت ھونی چاھئے ۔

در حقیقت ذمہ داریوں کے لحاظ سے مرد اور عورتوں کے درمیان مساوی سلوک و قوانین خود عورتوں کے مفادات اور ان کی حیثیت و منزلت کو نقصان پھونچتے ھیں ھے ۔ اس کا فائدہ بیشتر مردوں کو ھی حاصل ھوتا ھے۔

یہ عورتوں کی تذلیل کرنے کی مغرب کی ایک نئے انداز کی سازش ھے جو آھستہ آھستہ ساری دنیا میں پھیلتی جا رھی ھے اور دنیا کو اس کا احساس تک نھیں ھے