• صارفین کی تعداد :
  • 4375
  • 10/31/2014
  • تاريخ :

ماہ محرم

ماہ محرم

حسين پہ داڑا پريت دا

سار يے سيرلا دا

خوايندے بالہ لہ دا

ترجمہ:- حسين تختہ دار پر ليٹا ہوا ہے اس کا سر کٹا ہوا ہے اور اس کي بہنيں اس کو پکاررہي ہيں

پشتو کا يہ مرثيہ آج بھي لاشعور کے کسي کونے ميں بچپن کي ياد کي صورت ميں موجود ہے- جب محرم کا مہينہ آتا ہے يہ مرثيہ پھر سے ذہن ميں گونجنے لگتا ہے- مجھے آج بھي ياد ہے جب ميري عمر پانچ سال تھي اس وقت محرم کے مہينے کي آمد کے ساتھ ہي شہر کے بچے مٹي کے زيور بنانا شروع کر ديتے تھے- يوں يہ سلسلہ دسويں تک جاري رہتا- دسويں محرم کو صبح سويرے سب بچے اٹھ جاتے اور قبرستان کا رخ کرتے وہاں سب يہ مرثيہ پڑھتے جاتے اور وہ مٹي کے زيورات قبرستان ميں موجود بيري کے درختوں ميں پھينکے جاتے- مجھے نہيں معلوم کہ اس پورے عمل کا مقصد کيا تھا- مگر ہم چھوٹے بچوں کے ليے يہ ايک ايسا مشغلہ تھا جس کي ادائيگي ميں سب پيش پيش رہتے تھے- اس کے بعد ميرے دادا قبرستان جاتے ہر قبر پر پاني ڈالتے اور کجھور کي ايک شاخ وہاں چھوڑ آتے - اسي محرم کي بدولت مجھے اپنے پردادا ، اور ان کے دادا کي قبروں کے متعلق معلوم ہوا- اس مہينے کا احترام اس قدر تھا کہ کسي بھي قسم کي موسيقي سننا گناہ کبيرہ تصور کي جاتي -

- بچپن ميں جب بھي تعزيے کا جلوس ميں ٹي وي پر ديکھتا تھا تو ڈر کے مارے اپنا منہ چادر ميں چھپا ليتا تھا- مجھے اس وقت جلوس سے بہت خوف آتا تھا - مگر يہاں شہر ميں خود اپنے دوستوں کے ساتھ جلوس ميں جاتا - ہم سبيل کا شربت پيتے نياز کے چاول اور زردہ بڑے شوق سے تناول کرتے- گول چکر سے نکلنے والا يہ جلوس شہر کے تمام مرکزي راستوں سے ہوتا ہوا ريلوے روڈ پر ختم ہو جاتا - ہاں يہاں کي مقامي سني آبادي بڑے جوش و خروش سے اس جلوس ميں شريک ہوتي - جگہ جگہ سبيليں لگائي جاتيں- روضے پر خواتين منتيں مانگے آتيں اور يہ جلوس ايک جم غفير کي صورت ميں آگے بڑھتاا- يوں محرم کا مہينہ کسي خاص فرقے يا گروہ کے بجائے ايک اجتماعي تہذيبي رنگ ليے ہوئے تھا-

مگر گذشتہ چند سالوں سے جيسے سب کچھ بدل گيا ہے- محرم کا مہينہ آتا ہے تو خوف کي ايک لہر پورے شہر ميں پھيل جاتي ہے- شہر ويران ہوجاتا ہے مسجدوں ميں نمازيوں کي تعداد کم ہونے لگتي ہے- دس محرم کو پورا شہر سيل کر ديا جاتا ہے- يوں ايک مخصوص علاقے ميں جلوس نکالا جاتا ہے جہاں عام شہريوں کا داخلہ ممنوع قرار ديا جاتا ہے- دراصل فرقہ واريت کے زہر نے جس بے دردي سے ہماري جڑوں کو کھوکھلا کيا ہے شايد ہي کسي دوسري برائي نے ہميں اتنا نقصان پہنچايا ہو- آج بھائي بھائي کے خون کا پياسا ہے- شايد ہم تہذيبي ، معاشرتي ، مذہبي ہر سطح پر تنزل کا شکار ہيں اور حالات مزيد خراب سے خراب تر ہو تے جارہے ہيں-


متعلقہ تحریریں:

واقع کربلا کے موقع پر رونما ہونے والے واقعات کا خاکہ

امام سجاد (عليہ السلام) کا خطبہ شہر کوفہ ميں