• صارفین کی تعداد :
  • 3076
  • 5/3/2014
  • تاريخ :

فقہ اور فقہاء شيعہ کا تشخص اور تعارف ( حصّہ دوّم )

شیخ مفید

فقہ شيعہ کا دوسرا دور، فقہ صفوي کا ہے جو دسويں صدي ہجري سے بارہويں صدي ہجري قمري تک جاري رہا - فقہ صفوي متعدد رجحانات کي حامل ہے  جن ميں فقہ محقق ثاني ہے - " شيخ علي بن عبد العالي کرکي " محقق ثاني سے معروف ہيں - آپ ان عظيم شخصيات ميں سے ہيں جنہوں نے فقہ شيعہ کو مستغني کيا - شيخ کرکي ، جبل عامل کے عظيم فقيہ  اور فقہاء شيعہ کے اکابرين ميں سے ہيں - انہوں نے  شام و عراق ميں اپني تعليم مکمل کي اور پھر شاہ طہماسب اول کے زمانے ميں ايران تشريف لائے اور ايران ميں انہيں "شيخ الاسلامي" کا منصب سونپا گيا - محقق ثاني کے ايران آنے اور قزوين اور پھر اصفہان ميں حوزہ علميہ کي بنياد ڈالے جانے اور فقہ ميں ممتاز شاگردوں کي تربيت اور پرورش اس بات کا باعث بني کہ پہلي بار ايران کو فقہ شيعہ کي مرکزيت حاصل ہوئي - محقق ثاني کا اہم کردار دو نکتے ميں خلاصہ ہوتا ہے اول تو يہ کہ انہوں نے ٹھوس اور مظبوط فقہي دلائل اور استدلال قائم کئے  اور دوسري جانب فقہ ميں حکومتي مسائل جيسے حدود ، اختيارات ، نماز جمعہ ، خراج اور ديگر فقہي مسائل پر توجہ کي - فقہ ميں ان کي معروف کتاب" جامع المقاصد " ہے کہ جو علامہ حلي کي کتاب قواعد پر شرح ہے - محقق ثاني نے اپنے بعد کے زمانے کے فقہاء پر بہت زيادہ اثرات مرتب کئے - ان محققين ميں سے جو کرکي سے متاثر نظر آتے ہيں ان ميں " مير داماد " کي جانب اشارہ کيا جا سکتا ہے -

سيد محمد باقر ، جو محمد داماد استرآبادي کے فرزند ہيں ، "مير داماد" سے معروف ہيں اور آپ عہد صفوي کے ممتاز اور عظيم علماء و حکماء ميں سے ہيں -سيد محمد باقر 960 ہجري ميں پيدا ہوئے - مير داماد کا سلسلۂ نسب امام حسين (ع) سے ملتا ہے- اس لحاظ سے کہ وہ ايک شريف اور بافضل و کمال گھرانے ميں پرورش پائے ، اسي بچپن سے ہي ان ميں علم کے حصول کا شوق پايا جاتا تھا  - انہوں نے ديني علوم کا آغاز  بچپن ميں ايران  کے شہر مشہد مقدس سے کيا اور وہاں کے اساتذہ اور فضلاء سے کسب علم کيا - ہرات ميں مير داماد کا تعليمي دور، اعلي تعليم کے حصول اور علمي صلاحيتوں سے سرشار ہونے کا دور تھا - اور اسي دور کے بعد سے آپ کو عالمي ممتاز شخصيت کے طور پر جانا گيا اور علم معقولات  و منقولات ميں آپ کا شمار عظيم علماء ميں ہونے لگا- ميرداماد کے زمانے ميں اصفہان کا حوزۂ علميہ ، سرچشمۂ حکمت تھا اس طرح سے کہ دنيا کے اطراف واکناف سے لوگ حصول علم کے لئے اصفہان آنے لگے -بلا شبہ اصفہان کے حوزۂ علميہ کا يہ امتياز، مير داماد جيسي اس دور کي ممتاز شخصيات کا مرہون منت ہے - مير داماد اپنے بعد کے افکار پر دو طريقے سے اثرانداز ہوئے - ايک طرف تو ان کي سو جلدوں اور رسالوں سے زيادہ تاليفات و تصنيفات ہيں  اور دوسري طرف انہوں نے بہت سے  ايسے شاگردوں کي تربيت کي  جن ميں سے ہر کسي نے اپنے قيمتي آثار چھوڑے ہيں جيسے کہ ملاصدرا، کہ جنہوں نے اپنے بعد فلسفيانہ افکار پر گہرے اثرات مرتب کئے ہيں - مير داماد 1040 ہجري قمري ميں انتقال کر گئے - اس عظيم فقيہ کامزار ، نجف ميں حضرت علي (ع) کے جوار ميں ہے- ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

حضرت امام زمانہ (عج) کي نظر ميں شيخ مفيد کا مرتبہ 

شيعہ کافر ، تو سب کافر