• صارفین کی تعداد :
  • 1187
  • 4/21/2010
  • تاريخ :

شیعہ عوام کا عبداللہ بن عبدالعزیز کے نام خط؛  شیعہ قیدیوں کو رہا کریں اور نماز باجماعت کی اجازت دیں

خط
شیعہ عوام اور عوامی راہنماؤں نے سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے نام خط میں درخواست کی ہے کہ شیعہ قیدیوں کو رہا کردیا جائے اور اہل تشیع کی نماز جماعت سے پابندی اٹھائیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے شیعیان حجاز نے عبداللہ بن عبدالعزیز کو ایک خط لکھا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ شیعہ قیدیوں کی رہائی اور شیعہ نماز جماعت پر سے پابندی اٹھانے کی ہدایات جاری کریں۔

اس خط میں لکھا گیا ہے کہ "ہم اس مقام عالی سے درخواست کرتے ہیں کہ اہل تشیع کے خلاف جاری ناانصافیوں کے خاتمی کے سلسلے میں ہدایات جاری کریں اور ہمارے دینی برادران کو جیلوں سے رہا کروائیں اور ہمیں اجازت دیں کہ اپنی مسجدوں میں نماز جماعت برپا کریں".

قابل ذکر ہے کہ سعودی حکام نی گذشتہ ہفتے کی دوران 72 سالہ احمدالخضیر، 64 سالہ فہدالمکی، 50 سالہ صالح المہنا اور 30 سالہ حسن المکی سمیت متعدد شیعہ راہنماؤں کو اپنی رہائشگاہوں میں نماز جماعت منعقد کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور یہ شیعہ راہنما تا حال جیلوں میں بند ہیں۔

یاد رہے کہ اب تک سعودی حکام نے دمام ، الخبر ، ابقیق ، راس تنورہ ، اور الخفجی میں 9 شیعہ مساجد بند کردی ہیں اور جعفری اور اسماعیلی پیروان اہل بیت (ع) کو نماز جماعت سے منع کیا ہے اور حال ہی میں وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز نے شیعہ راہنماؤں سے ملاقات کرکے کہا ہے کہ سیل ہونے والی شیعہ مساجد کو کسی صورت میں بھی کھولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں کا کہناہے کہ حکومت کے ان اقدامات کا کوئی جوازنہيں ہے اوراس سے شیعہ قوم کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔ دوسری طرف سے انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شیعہ مسلمانوں کےخلاف سعودی حکومت کے امتیازی اور  متعصبانہ رویے کی شدید مذمت کی ہے