• صارفین کی تعداد :
  • 475
  • 12/31/2017 1:21:00 PM
  • تاريخ :

بچوں کی تربیت میں موبایل کا استعمال نقصان دہ

خاندانی امور کے ماہر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ موبایل بچوں اور نوجواںوں کے لئے سب سے زیادہ ضرر رساں شئی ہے کہا: موبایل، بہت سارے ممالک ترقی پذیر ممالک اور اسلامی ممالک کے گھرانوں کے بیچ دراڑ پڑنے کا سبب ہے ۔

 
بچوں کی تربیت میں موبایل کا استعمال نقصان دہ


خاندانی امور کے ماہر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ موبایل بچوں اور نوجواںوں کے لئے سب سے زیادہ ضرر رساں شئی ہے کہا: موبایل، بہت سارے ممالک ترقی پذیر ممالک اور اسلامی ممالک کے گھرانوں کے بیچ دراڑ پڑنے کا سبب ہے ۔

سرزمین ایران میں خاندانی امور کے ماہر حجت الاسلام والمسلمین سید علی رضا تراشیون نے حرم حضرت معصومہ قم (س) میں تقریر کرتے ہوئے بچوں پر موبایل کے برے اثرات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ماں باپ جتنی تاخیر اور دیر سے اپنے بچوں کے موبایل فراہم کریں گے وہ اپنے بچوں کی تربیت میں کامیاب رہیں گے ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ موجودہ دنیا میں موبایل خانوادے کے لئے بہت بڑا خطرہ شمار کیا جاتا ہے کہا: عراق جیسے ملک میں طلاق کا دوسرا سبب موبایل کا غلط استعمال ہے اور ایران میں بھی بہت سارے طلاق اسی موبایل سے غلط استعمال کی وجہ سے انجام پارہے ہیں ۔

حجت الاسلام والمسلمین تراشیون نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ موبایل سے گھرانوں میں محبتیں کم ہوگئی ہیں کہا: حضرت رسول(ص) نے فرمایا کہ شوھر کا بیوی کے پاس بیٹھنا مسجد میں اعتکاف میں بیٹھنے سے بہتر ہے ، مگر افسوس عصر حاضر میں حد سے زیادہ موبایل کے استعمال نے اس ثقافت میں کمی پیدا کردی ہے اور میاں بیوی کی محبتوں میں کمی آگئی ہے ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ والدین بچوں کی تربیت کا آئڈیل ہیں کہا: اگر ماں باپ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے موبایل سے دور رہیں تو گھر کی چار دیواری میں خود کو بھی موبایل سے دور رکھیں ۔

انہوں نے حضرت رسول(ص) سے منقول حدیث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت رسول اسلام(ص) نے فرمایا کہ بچے سات سال تک وزیر ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ فقط مشورہ کی حد تک ان سے استفادہ کریں بلکہ منظور یہ ہے کہ والدین براہ راست بچوں کو گھر کے کام میں شامل رکھیں کیوں کہ اگر بچہ بیکار اور فری رہے گا تو اپنا سارا وقت موبایل بازی اور گیم میں گزار دے گا ۔

انہوں نے یاد دہانی کی: مذھبی پروگراموں میں بچوں کی شرکت انہیں موبال سے دور رکھنے کا دیگر طریقہ ہے ۔ 

رسا نیوز ایجنسی