• صارفین کی تعداد :
  • 4117
  • 11/4/2014
  • تاريخ :

واقعہ عاشورہ ، انسانيت کے لئے عظيم سرمايہ

واقعہ عاشورہ ، انسانیت کے لئے عظیم سرمایہ

ايک بار پھر ماہ محرم آگيا اور شور ماتم و گريہ بلند ہوگيا، محرم آتا ہے تو مردہ انسانوں کي رگوں ميں خون دوڑ جاتا ہے ، خشک آنکھوں سے آنسو کا چشمہ جاري ہوجاتا ہے اور عشق حسيني کي حيات آفريں بارشوں کے قطرے انسانوں کے تاريک دلوں پر گرتے اور انہيں زندہ کرتے ہيں-

محرم آتا ہے تو دنيا کي مختلف سرزمينوں، شہروں اورديہاتوں ميں سکون اور سکوت ٹوٹ جاتا ہے اور ان ميں دوبارہ ولولہ پيدا ہوجاتا ہے- محرم کے آتےہي عقليں حيرت سے انگشت بدنداں ہوجاتي ہيں اور اس فکر ميں ڈوب جاتي ہيں کہ آخر يہ کيسا واقعہ ہے جو صدياں گذر جانے کےبعد ، آج بھي زندہ و پايندہ ہے - جب محرم آتا ہے اور شہر کا شہر سياہ پوش ہوجاتا ہے تو بہت سے يہ سوچتے ہيں کہ اتني صدياں گذر جانے کے بعد بھي يہ عزاداري، لوگوں پر کيا تاثير رکھتي ہے اور عزاداري امام حسين عليہ السلام کا فلسفہ کيا ہے؟

ہر سماج اور معاشرے کے ماضي کے واقعات، اس معاشرے کي سرنوشت، اور حتي دوسرے معاشروں کے لئے بھي مختلف اثرات کے حامل ہوسکتے ہيں- اگر کوئي واقعہ مفيد اور موثر ہو، تو اس پر نظرثاني اور اسے زندہ رکھنے سے بھي، ان آثار کو دوام عطا کيا جاسکتا ہے- دوسري طرف ان اہم واقعات کو فراموش کردينے سے بھي، انساني معاشرے کو عظيم نقصانات کا متحمل ہونا پڑسکتا ہے اس لئے کہ اس قسم کے واقعات ، چاہے وہ معنوي لحاظ سے ہوں يا مادي لحاظ سے ،قوموں کے لئے انتہائي اہميت کے حامل ہوتے ہيں-اس بناء پر ايسےعظيم واقعات کہ جو انسانوں کے لئے عبرت ناک اور درس حاصل کرنے کا ذريعہ ہيں، ہرقوم وملت بلکہ تمام انسانيت کا عظيم سرمايہ شمار ہوتے ہيں- اور عقل بھي حکم کرتي ہے کہ ايسے عظيم سرمايوں کا تحفظ کيا جائے انہيں زندہ رکھا جائے اور ان سے استفادہ کيا جائے-

بلاشبہ متعدد پہلووں کا حامل عاشورا کا عظيم سانحہ، انسانيت کے لئے ايک عظيم سرمايہ ہے -کيوں کہ يہ سرمايہ فرزند رسول خدا حضرت امام حسين عليہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا اور اطفال حسيني کي بے مثال شہادتوں کے ذريعے حاصل ہوا ہے - دوسري طرف واقعۂ کربلا کسي فرد يا گروہ کے ذاتي مفادات اورحتي قومي مفادات کے لئے بھي وقوع پذير نہيں ہوا بلکہ يہ واقعہ اور امام حسين عليہ السلام اور ان کے دلير ساتھيوں کي شہادت ايک مکتب ہے کہ جس ميں تمام انسانيت کےلئے، توحيد، امامت ، امربالمعروف اور نہي عن المنکر ، حقيقت طلبي ، ظلم کے خلاف جنگ ، انساني کرامت و عزت اور اس جيسے ديگر دروس اور اہداف ہيں کہ جنہيں حاصل کرنا چاہئے- اگر يہ انسان ساز مکتب، نسل در نسل انسانوں ميں منتقل ہوتا رہے تو پوري انسانيت کو اس سے فائدہ پہنچے گا-

ائمہ اطہار عليھم السلام نے امام حسين عليہ السلام کي عزاداري منانے پر تاکيد کرتے ہوئے ان مراسم کو عوام ميں اتحاد و وحدت اور اسلام کي اعلي اقدار کي ترويج کا محور قرار ديا ہے - اس طرح سے کہ آج ايام محرم ميں لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان ، نسلي امتياز اور طبقہ بندي اور مذہبي اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر سيد الشھداء مظلوم کربلا کي عزاداري مناتے ہيں اور حسيني پرچم تلے جمع ہوتے ہيں- ايران کے لاکھوں ولولہ انگيز اور پرجوش عوام نے اسلامي انقلاب کي عظيم الشان تحريک کے دوران محرم و صفر ميں خاص طور پر نو اور دس محرم کوايک عظيم طاقت کا مظاہرہ کيا جس نے طاغوتوں کو لرزہ بر اندام کرديا اور جس نے امام حسين عليہ السلام کي عزاداري کو محور قرارد دينے کي ائمہ اطہار عليھم السلام کي تاکيد کو واضح اور روشن کرديا -

جرمني کے ماہر مشرقيات "ماربين" اپنے ايک مقالے ميں لکھتے ہيں کہ "ہمارے بعض مورخين کي بے خبري اس بات کا باعث بني ہے کہ شيعہ مسلمانوں کي عزاداري کو، جنون اور ديوانگي کي نسبت دي جائے- ليکن يہ باتيں بيہودہ اور خرافات ہيں اور شيعوں پر تہمت ہے - وہ لکھتے ہيں ہم نے قوموں کے درميان شيعہ جيسي ولولہ انگيز اور زندہ دل قوم نہيں ديکھي، کيوں کہ شيعوں نے عزاداري امام حسين (ع) برپا کرنے کے لئے عاقلانہ پاليسياں انجام دي ہيں اور وہ نتيجہ بخش مذہبي تحريکيں وجود ميں لائے ہيں " -

عزاداري، ايک عظيم انقلاب برپا کرنے والے مظلوم کے ساتھ جذبات کے بندھن کو مضبوط کرنا اور ستمگرو ظالم کےخلاف احتجاج کرناہے - اور استاد شہيد مرتضي مطہري کے بقول " شيہد پر گريہ اس کے ساتھ رزم ميں شرکت کے مترادف ہے" اس بناء پر عزاداري کے جلسوں اور جلوسوں ميں شرکت کرنے والوں ميں جو معنوي تبديلي رونما ہوتي ہے اس سے سماجي تبديليوں کے لئےحالات سازگار ہوتے ہيں اور در حقيقت امام حسين عليہ السلام کے اہداف و مقاصد کے تحفظ کے لئے حالات فراہم ہوتے ہيں - شہيدوں کا غم اور خاص طور پر سيد الشہدا حضرت امام حسين کا غم ، کربلا کے عظيم واقعے کو زندہ جاويد بنانے کا ذريعہ ہے اس غم سے عزاداروں اور حق کے پيشواوں کے درميان باطني بندھن قائم ہوتاہے اور ساتھ ہي عوام ميں ظلم و ستم سے مقابلے کي روح زندہ ہوتي ہے-(جاري ہے)


متعلقہ تحریریں:

قمہ زني کيا ہے؟

طاغوت کے خلاف اٹھنے والي تحريکوں کي حمايت