• صارفین کی تعداد :
  • 5907
  • 2/16/2014
  • تاريخ :

قرآن شفاء ہے

قرآن المجید

قرآن ميں ارشاد باري تعالي ہے کہ قرآن شفاء ہے ، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے: ’’اوراگر ہم اسے عجمي (عربي زبان کے علاوہ کسي) زبان کا قرآن بناتے تو وہ کافر لوگ کہتے کہ اسکي آيتيں کيوں واضح کي گئيں ،يہ کيا کہ عجمي کتاب اورآپ عربي رسول ؟اے نبي !ان سے کہہ دو: وہ تومئومنوں کيلئے شفاء اورہدايت ہے-‘‘ اور ارشادفرمايا:اوريہ قرآن جو ہم نازل کررہے ہيں مومنوں کيلئے تو سراسر شفاء اور رحمت ہے‘‘-اس آيت ميں لفظ ’’مِنْ ‘‘آيا ہے يہ ’’مِنْ‘‘بيانِ جنس کيلئے ہے يعني جنسِ قرآن شفاء اور رحمت ہے - يہ ’’من ‘‘تبعيضيہ نہيں ہے کيونکہ قرآن حکيم سب کا سب شفاء اور رحمت ہے جيسا کہ ماسبق آيت سے معلوم ہوتا ہے- يقينا قرآنِ حکيم ہر حالت‘ہر شک وشبہ اور ہر زيب وتردد سے قلوب کو شفاء ديتا ہے- يقينا اللہ تعاليٰ نے ازالہ امراض کے ليے قرآن حکيم سے زيادہ عام‘نفع بخش اورعظيم ترين اورزيادہ بہتر کوئي دوا نہيں پيدا کي- سورئہ فاتحہ ايک ايسي آسان اورسہل ترين دوا ہے کہ اس کے مثل سہل وآسان اوربہترين دوا ممکن نہيں اگر کوئي اللہ کا بندہ اچھے طريقہ سے سورئہ فاتحہ کے ذريعہ علاج معالجہ کرے تو شفاء امراض کے ليے سورئہ فاتحہ کے اندر عجيب وغريب تاثير پائے گا- چنانچہ ايک مدت مديد تک ميں ’’مکہ معظمہ ‘‘ميں رہا اوراس اثنا ميں بہت سي بيماريا ں مجھ پر مسلط ہوتي رہيں مجھے يہاں نہ کوئي طبيب ميسر آيا نہ دوا،ميں صرف سورئہ فاتحہ سے اپنا علاج کرتا رہا اوراس کے اندر ميں نے عجيب وغريب تاثير ديکھي - ميں اکثر مريضوں کو سورئہ فاتحہ سے علاج کرنے کي ترغيب ديتا تھا- اورلوگ اکثر اس سے صحت ياب ہوجاتے تھے- يہاں يہ بات سمجھ لينا ضروري ہے کہ جو اذکار ‘آيات‘دعائيں پڑھي جاتي ہيں اورجن سے شفاء مطلوب ہوتي ہے يقينا نافع اور شفاء بخش ہوتي ہيں ليکن اس کے ليے يہ ضروري ہے کہ محل اس کي قبوليت کي صلاحيت رکھتا ہو اور فاعل وعامل کي قوت وہمت اور اس کي تاثير بھي قبوليت محل کي مقتضي ہوجو تم ديکھو کہ اذکا ر‘آيات اور دعائوں ميں شفاء نہيں ہے تو سمجھ لينا چاہيے کہ پڑھنے اور دعاء کرنے والے کي تاثير وتوجہ کمزور ہے يا اثر قبول کرنے والے ميں قبولِ تاثير کي صلاحيت نہيں ہے يا کوئي اورايسي شديد وسخت رکاوٹ موجود ہے جو دوا کي تاثير کو روک رہي ہے‘جس طرح کہ عموما ظاہر ي اورحسي امراض ميں دوائوں کا حال ہوا کرتا ہے اور کبھي ايسا اس وجہ سے بھي ہوتا ہے کہ دوا کے اقتضا اور تاثير کے درميان کوئي قوي رکاوٹ مزاحم ہوجاتي ہے -جب طبيعت کسي دوا کو کامل طور پر قبول کرليتي ہے تو جس درجہ طبيعت دواء کو قبول کر ے گي اسي درجہ بدن اورجسم کو نفع پہنچے گا-

 

بشکريہ نواۓ وقت

 


متعلقہ تحریریں:

قرآن  انسان کے ليۓ مشعل نور

قرآن کي سمجھ