• صارفین کی تعداد :
  • 4158
  • 12/11/2013
  • تاريخ :

فلسفۂ انتظار کي تصوير کشي! 2

فلسفۂ انتظار کی تصویر کشی! 2

امر مسلّم يہ ہے کہ انتظار فَرَج سے مراد اول الذکر انتظار ہے نہ کہ دوسري قسم کا انتظار جو تباہ کن اور مفلوج کن ہے-

استاد شہيد مطہري انتظار کي ان دو قسموں کے بارے ميں فرماتے ہيں:

مہدويت اور قيام و انقلاب مہدي (عج) کے بارے ميں عوامي اور تنگ نظرانہ تاثر يہ ہے کہ يہ ايک دھماکہ خيز کيفيت کا حامل ہے اور صرف ظلم و امتيازي رويوں، گھٹن، حق کشي، فساد اور بر راہرويوں سے معرض وجود ميں آتا ہے؛ ايک قسم کا منظم ہونا ہے، جس کا سبب افراتفري اور پريشان حالي ہے- جب صلاح اور نيکي صفر کے درجے تک پہنچے، حق و حقيقت کا کوئي حامي نہ ہو، باطل ہي ميدان ميں جولانيوں دے رہا ہو--- يہ دھماکہ رونما ہوگا- اور غيب کا ہاتھ ـ اہل حقيقت کي نجات کے لئے نہيں بلکہ ـ حقيقت کي نجات کے لئے ظاہر ہوگا، کيونکہ حقيقت کا کوئي حامي نہيں ہے- چنانچہ [ظہور مہدي (عج) سے پہلے] ہر قيام اور ہر تحريک مذموم ہے --- اس کے برعکس ہر گناہ، ہر ظلم اور ہر امتيازي رويہ، ہر حق کشي اور ہر پليدي ـ چونکہ کلي مصلحت کي تمہيد ہے ـ لہذا ظہور ميں تعجيل کے لئے بہترين مدد ہے اور انتظار کي بہترين شکل فساد اور گناہ کي ترويج ہے --- مہدي موعود (عج) کے ظہور اور قيام کا يہ تصور اور تاثر، کسي صورت ميں بھي اسلامي معياروں سے مطابقت نہيں رکھتا-

يہ تفکر ـ جس کي جڑيں قرآن ميں پيوست ہيں اور احاديث ميں ان ہي آيات سے استناد کيا گيا ہے ـ مذکورہ بالا تصور سے تضاد رکھتا ہے- ان آيات کريمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق و باطل کے درميان جنگ کے حلقوں ميں سے ايک حلقہ ہے جو حق کي آخري فتح پر منتج ہوگا- اس سعادت ميں ايک فرد کي حصہ داري اس امر پر موقوف ہے کہ وہ فرد عملي طور پر اہل حق کي جماعت ميں ہو- (3)

 

حوالہ جات:

3- قيام و انقلاب مهدي، استاد مطهري، ص54-58-

 

ترجمہ : فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

حکومت حضرت امام مھدي (ع) ميں معجزے کي ضرورت

اھل سنت کي امام مہدي عليہ السلام کي ولادت کے بارے ميں رائے