• صارفین کی تعداد :
  • 3867
  • 12/8/2013
  • تاريخ :

آنجناب کا انتظار! 1

آنجناب کا انتظار! 1

انسان اپني زندگي ميں انتظار کا مرہون منت ہے اور اگر انتظار سے باہر نکلے اور مستقبل کے بارے ميں پر اميد نہ ہو تو زندگي بےمقصد ہوگي؛ انتظار اور حرکت يا تحرک ساتھ ساتھ چلتے ہيں، جس چيز کا انتظار کيا جاتا ہے، جس قدر وہ مقدس اور قابل قدر ہو انتظار بھي اسي قدر مقدس اور اعلي ہوگا اور ہم لوگوں کے انتظار کي قدر و قيمت يوں معلوم کرتے ہيں:

* کوئي سال کے آخر ميں تنخواہ ميں اضافے کا انتظار کرتا ہے؛

* کوئي تعليم کے آخري سال اور سرٹيفکيٹ اور ڈگري کا منتظر ہے جس کے ذريعے وہ روزگار کي تلاش ميں نکلے گا؛

* کوئي معاشي صورت حال کي بہتري کا منتظر ہے تاکہ شادي کرے اور تنہائي سے خلاصي پائے؛

* کوئي آمدني ميں اضافے کا منتظر ہے تاکہ ذاتي مکان اور گاڑي خريد لے اور اگر زيادہ بلند ہمت ہو تو اسپتال، مسجد، اسکول يا کتب خانہ تعمير کرے؛

* کوئي کسي نيلامي يا ٹھيکہ جيتنے کا انتظار کرتا ہے؛

* کوئي معيشت کي بہتري کا منتظر ہے تاکہ حج و زيارت پر جائے اور کوئي ---

مختصر يہ کہ سب منتظر ہيں، تاجر و صنعتکار، باغدار و کاشتکار، شاگرد و استاد، والدين اور بچے سب منتظر ہيں بلکہ تمام قوميں اور معاشرے اور حکومتيں بھي...

** سرمايہ دارانہ نظام سے وابستہ حکومتيں مزيد طاقت اور دنيا کو زير تسلط لانے اور قوموں کا استحصال کرنے کے کے منتظر ہيں؛

** کميونسٹ حکومتيں کو انتظار ہوتا تھا کہ مزيد ممالک کو زير تسلط لائيں اور قوموں کي کمزوري اور غربت کميونسٹ انقلابات کے لئے راستہ ہموار کرے-

چنانچہ قرآن کريم کا ارشاد ہے: "کہہ ديجئے کہ ہر ايک انتظار کرنے والا ہے لہٰذا تم بھي منتظر رہو"- (1)

اگر انسان سے انتظار چھين ليا جائے تو زندگي جاري رکھنا بےمعني ہوگا، انتظار زندگي کو لذت بخش بناتا ہے اور انتظار کي بنا پر انسان زندگي سے محبت کرتا ہے اور زندگي کو روح و معني بخشتا اور انسان کو زندگي کي طرف مائل کرتا ہے پس پوري دنيا اور تمام معاشرے اور افراد جب تک فناء اور موت سے دوچار نہيں ہوئے ہيں، منتظر رہتے ہيں اور انہيں منتظر رہنا چاہئے-

اسلام اور انتظار:

اسلام، جس کي تعليمات و ہدايات عميق اور صحيح معاشرتي اور حقيقي فلسفے پر استوار ہيں، انتظار اور مستقبل کي طرف نگاہ کو اسلامي معاشرے کي بقاء کي بنياد قرار ديتا ہے جو جذبات کو متحرک کرتا ہے اور روح کو وجد کي نعمت سے نوازتا ہے اور بہت مستقبل اور فتح و فراخي و فَرَج کو برترين اور بہترين عمل سمجھتا ہے اور اسلام کے رہبر عظيم الشان (ص) نے فرمايا ہے کہ "انتظار فَرَج ميري امت کے بہترين اعمال ميں سے ہے- (2)

 

حوالہ جات:

1- {قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوا} سوره طه ، آيه 135-  

2- قال رسول الله (صلي الله عليه وآله): {افضل اعمال امتي انتظار الفرج}- تحف العقول، صفحه 37-

 

 

ترجمہ: فرجت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

آخرالزمان رسول خدا (ص) کي نظر ميں 2

ديگر اديان ميں موعود آخر الزمان کا عقيدہ