• صارفین کی تعداد :
  • 3860
  • 12/7/2013
  • تاريخ :

انتظار مہدي اور حکومت نبوي! 1

انتظار مہدی اور حکومت نبوی! 1

سوال يہ ہے کہ شر اور پليدي سے انسان کي نجات اور مصلح حقيقي کا انتظار رسول اللہ (ص) کي حکومت کے ايام کي مانند ہے يا اس سے بھي بہتر و بالاتر ہے؟ اگر ايسا ہے تو حضرت رسول (ص) کے زمانے ميں اسلامي معاشرہ اس سطح پر کيوں نہيں پہنچا؟

جواب:

بے شک اس خاندان پاک سے محبت اور قربت ان کي تعليمات سے بہرہ مندي اور سعادت کا سبب ہے؛ ليکن افسوس کا مقام ہے کہ رسول خدا (ص) نے اپنے بعد اپني عترت کي پيروي اور محبت و مودت کي بہت سفارش کي اور خداوند متعال نے بھي يہي حکم ديا (1) اور رسول اللہ (ص) نے حديث ثقلين (2) ميں قرآن و اہل بيت (ع) کو قرين قرار ديا اور ان دونوں کي پيروي کو گمراہي سے نجات کي ضمانت قرار ديا؛ اور مستدرک الصحيحين سميت متعدد سني کتب اور 110 صحابہ کي گواہي کے مطابق اميرالمۆمنين (ع) کي حکومت کا اعلان کيا اور اصحاب نے غدير ميں بيعت کي ليکن امتيوں نے بہت جلد خاندان رسالت کو معاشرتي امور سے الگ کرديا اور انہيں مکمل بےرخي کا سامنا کرنا پڑا؛ يہيں سے اس سوال کا جواب واضح ہوتا ہے کہ اسلام رسول اللہ (ص) کے زمانے ميں کيوں اس سطح پر نہ پہنچ سکا جس کا اللہ نے وعدہ ديا تھا- بےشک اس نورس پودے کو باغبان سے الگ کرديا گيا اور اس کشتي کو کشتي بان سے محروم کرديا گيا چنانچہ يہ مسلسل ساحل سے دور اور دورتر ہوئي-

رسول اللہ (ص) کے ايام حيات دوسروں کي ہدايت اور انہيں کفار و مشرکين کے خلاف جہاد پر آمادہ کرنے ميں گذري اور وہ اپنے الہي اور قرآني اہداف تک نہ پہنچ سکے اور آپ (ص) کے وصال کے بعد اسلام کي باگ ڈور ان برگزيدگان کے سپرد نہ کي گئي جنہيں اللہ نے يہ عہدہ سونپا تھا-  چنانچہ حضرت مہدي (عج) کے ظہور کے ساتھ ہي رسول اللہ (ص) کي حقيقي حکومت قائم ہوگي، محرومين چھٹکارا پائيں گے-

 

حوالہ جات:

1- سورہ شوري آيت 23-

2- مستدرک الصحيحين ج 3 ص 109-

 

ترجمہ : فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

آخرالزمان رسول خدا (ص) کي نظر ميں 1

خر الزمان سے کيا مراد ہے؟ 2