• صارفین کی تعداد :
  • 6138
  • 9/18/2013
  • تاريخ :

چڑيا کے بچوں کي نجات

چڑیا کے بچوں کی نجات

چڑيا بي کے بچے (حصّہ اوّل)

ادھر چڑيا بي کو جب کسي کي چيخ و پکار سنائي دي تو وہ پريشان ہوگئيں کہ اللہ خير کرے کہيں يہ ميرے بچے تو نہيں رو رہے، جب چڑيا بي نے اپنے درخت کے قريب آ کر يہ منظر ديکھا کہ ان کے دونوں ننھے ننھے معصوم سے روئي کے گالے بچے انساني شکار بننے جا رہے ہيں تو ان سے رہا نہ گيا، حليہ سے يہ انسان تو بہت اچھے معلوم ہوتے تھے مگر چڑيا بي کي سمجھ ميں نہيں آرہا تھا کہ آخر انہوں نے ان کے بچوں کو کيوں پکڑ ليا ہے، اپني جان خطرے ميں ڈال کر وہ ان چند آدميوں کے گرد اپنے پر پھيلا کر ان کے سروں پر منڈلانے لگيں اور ساتھ ساستھ اپنے اللہ تعاليٰ سے دعا کرنے لگيں کہ اللہ تعاليٰ ميرے بچوں کو ان نيک بختوں سے نجات دلا دے، يہ تو بے قصور ہيں، ابھي چڑيا بي اپنے اللہ تعاليٰ سے دعا مانگ ہي رہي تھيں کہ انہوں نے ديکھا کہ ايک اور شخص اس انساني قافلہ کے ساتھ آملے- يہ شخص ان سب ميں بہت بااخلاق، شريف اور بھلے معلوم ہوتے تھے اور اس پورے گروہ کے سردار بھي شايد يہي تھے- جيسے ہي انہوں نے ديکھا کہ چڑيا بي کے دو ننھے ننھے معصوم بچے ان کے ساتھيوں کے قبضے ميں ہيں اور ان بچوں کي ماں پريشان ان کے گرد منڈلا رہي ہے تو وہ فکر مند ہوگئے اور انہوں نے اپنے ساتھيوں سے پوچھا کہ کس نے ان معصوم بچوں کو پکڑ کر بے زبان چڑيا کو تکليف پہنچائي ہے، قافلہ کے لوگوں نے اپنے سردار کو سارا ماجرا کہہ سنايا کہ جب آپ اپني ضرورت کے ليے گئے تو ہم نے ان بچوں کو پکڑ ليا، جب سے يہ چڑيا اپنے بچوں کے پيچھے ہمارے سروں پر منڈلا رہي ہے-

اس قافلہ کے سردار نے اپنے ساتھيوں کو حکم ديا کہ فوراً ان معصوم بچوں کو چھوڑ ديا جائے، چنانچہ ساتھيوں نے فوراً حکم کي تعليم کي اور يوں چڑيا بي نے ان کے سردار کو تشکر آمير نظروں سے ديکھا اور خوشي خوش اپنے بچوں کو لے کر اپنے گھونسلے کي جانب اڑ گئيں-

پيارے بچو! کيا آپ جانتے ہيں يہ نيک لوگ کون تھے، يہ نيک لوگ ہمارے پيارے نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے پيارے ساتھي  تھے اور اس قافلہ کے سردار خود ہمارے پيارے نبي حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ  وسلم تھے جو کہ تمام جہانوں کے ليے رحمت بن کر اس دنيا ميں تشريف لائے-   (ختم ہوا )

 

تحرير: فصيح اللہ حسيني


متعلقہ تحریریں :

لکڑہارے کي رحم دلي

کيا يہ بے سر وپا سي مخلوق آدمي زاد ہے؟!