• صارفین کی تعداد :
  • 5568
  • 9/11/2013
  • تاريخ :

چڑيا بي کے بچے   

چڑیا بی کے بچے

  گھنے جنگل کے پار افق پر سورج پوري آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور سورج کي شعاعيں درختوں کي اوٹ سے جھانکتے ہوئے جنگل کي ناہموار زمين پر بمشکل پہنچ رہي تھيں- گويا جنگل کي زندگي ميں ہر سو اجالا پھيل چکا تھا اور اس کے ساتھ ہي تمام چرند پرند بھي اپني اپني نگاہوں ميں ميٹھي اور معصوم سي انگڑائي لے کر بيدار ہوچکے تھے، وہ سب اپني سريلي اور خوب صورت آواز ميں خدائے واحد کي حمد و ثناء ميں مصروف تھے-

درختوں پر بسيرا کيے پرندے بھي اپنے اپنے بچوں کو بيدار کرکے گزشتہ رات کے جمع کيے دانوں سے ان کو ناشتہ کرا رہے تھے، ننھے ننھے پرندوں کے بابا جان آج کے دن کے ليے راشن تلاش کرنے نکل پڑے تھے- جب کہ ماما جان اپنے اپنے گھونسلوں کي صفائي ستھرائي کررہي تھيں، انہي درختوں ميں سے ايک درخت پر چڑيا بي اپنے دو ننھے ننھے بچوں کے ساتھ رہ رہي تھيں، بچوں کے ابا يعني چڑے مياں اپنے ديگر ساتھيوں کے ساتھ دانہ کي تلاش ميں نکل پڑے تھے، معمول کے مطابق چڑيا بي نے اپنے بچوں کو نہلايا دھلايا اور ديگر کام کاج سے فارغ ہو کر اب وہ پڑوس کے درخت پر بي فاختہ کے بچوں کي طبيعت دريافت کرنے گئي ہوئي تھيں- بي فاختہ کے بچے کئي روز سے سرد موسم کے باعث بيمار ہوگئے تھے-

جاتے جاتے چڑيا بي اپنے بچوں کو کہہ کر گئي تھيں کہ ديکھو شرارتيں نہ کرنا ورنہ شيطان کے چيلے کوے آ کر تمہيں کچا کھا جائيں گے، ادھر چڑيا بي کے جاتے ہي بچوں پر کوۆں کا خوف طاري تھا مگر يہ ڈر ان کي شرارتي اور بے چين طبيعت پر زيادہ دير حاوي نہ رہ سکا اور دونوں بچوں نے کھيل کود شروع کرديا- کھيل يہ تھا کہ دونوں بچے بيک وقت اپنے گھونسلے سے اڑان بھرتے اور زمين پر آکر ايک تنکا اٹھا کر واپس گھونسلے ميں لے جاتے- جو پہلے واپس آتا وہ جيت جاتا -

دو دفعہ تنکے اٹھا کر لانے کے بعد تيسري دفعہ آخري بار مقابلہ کے ليے دونوں نے اپنے پر تولے اور زمين پر آنے لگے، ابھي وہ زمين سے کچھ فاصلے پر ہي تھے کہ يکايک کسي چيز نے انہيں آ گھيرا اور وہ دونوں ايک مضبوط شکنجے ميں پھنس گئے، ننھے ننھے بچوں کے جب حواس بحال ہوئے تو انہوں نے ديکھا کہ دونوں کسي انساني قافللے کے ہاتھوں جکڑ ليے گئے ہيں، جب انہوں نے سوچا کہ يہ شکاري ہميں پکڑ کر لے جائيں گے، بس يہ جاننا تھا کہ دونوں اپنے بچاﺝ… کے ليے چيخ و پکار شروع کردي-  ( جاري ہے )

 

متعلقہ تحریریں:

شير اس کے ڈر سے ايسا فرار ہوا کہ اس نے پيچھے مڑ کر بھي نہ ديکھا

نيا مکان